اقوام متحدہ میں افغان مندوب نصیر احمد اندیشہ کا بڑا بیان۔ طالبان کے حالیہ فیصلوں اور احکامات کو ملکی قوانین تسلیم کرنے سے انکار۔ افغان عوام طالبان پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

June 21, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد اور لبنان جنگ بندی جیسے اہم امور پر مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔

June 21, 2026

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔

June 19, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

June 19, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے کھٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ناکام بنا دیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

June 19, 2026

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

June 19, 2026

افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی: ایک ماہ میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد وطن پہنچ گئے

وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی کے مطابق پاکستان سے 13 ہزار 834، ایران سے 823 اور ترکیہ سے 19 خاندان واپس آئے ہیں، جبکہ 32 ہزار 295 افراد کو جبری طور پر ملک بدر کیا گیا ہے۔
وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی کے مطابق پاکستان سے 13 ہزار 834، ایران سے 823 اور ترکیہ سے 19 خاندان واپس آئے ہیں، جبکہ 32 ہزار 295 افراد کو جبری طور پر ملک بدر کیا گیا ہے۔

پاکستان، ایران اور ترکیہ سے ایک ماہ میں 1 لاکھ 11 ہزار افغان مہاجرین کی واپسی۔ طالبان وزارتِ مہاجرین کے مطابق ان میں 32 ہزار سے زائد افراد کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا۔

April 21, 2026

پاکستان، ایران اور ترکیہ سے افغان مہاجرین کی بڑی تعداد میں وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ طالبان کی وزارت برائے مہاجرین کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 11 ہزار 324 افغان مہاجرین رضاکارانہ اور جبری طور پر افغانستان واپس پہنچے ہیں۔

وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان مہاجرین میں پاکستان سے 13 ہزار 834 خاندان، ایران سے 823 خاندان اور ترکیہ سے 19 خاندان شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واپس آنے والوں میں سے 32 ہزار 295 افراد ایسے ہیں جنہیں میزبان ممالک سے جبری طور پر بے دخل کر کے واپس بھیجا گیا ہے۔

مہاجرین کے مسائل اور شکایات

افغانستان واپس پہنچنے والے مہاجرین نے میزبان ممالک میں درپیش مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سخت پابندیوں، معاشی دباؤ اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرین کے مطابق انہیں اپنی جائیدادیں اور جمع پونجی سمیٹنے کی مہلت بھی نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے ان کا بیشتر سامان وہیں رہ گیا۔ وطن واپسی پر ان مہاجرین کو رہائش کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

آبادکاری کے لیے حکومتی اقدامات

دوسری جانب طالبان کی وزارت برائے شہری ترقی و ہاؤسنگ نے مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کے حوالے سے پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ہجری شمسی سال کے دوران 11 صوبوں میں واپس آنے والے خاندانوں کے لیے 7 ہزار سے زائد رہائشی پلاٹس تقسیم کیے گئے ہیں۔ وزارت کا مزید کہنا ہے کہ مہاجرین کے لیے نئے رہائشی منصوبوں اور مستقل بستیوں کی تعمیر پر کام جاری ہے تاکہ ان کی زندگیوں کو معمول پر لایا جا سکے۔

دیکھیے: تاجکستان میں سرحدی کارروائی: افغانستان سے داخل ہونے والے 2 منشیات اسمگلر ہلاک

متعلقہ مضامین

اقوام متحدہ میں افغان مندوب نصیر احمد اندیشہ کا بڑا بیان۔ طالبان کے حالیہ فیصلوں اور احکامات کو ملکی قوانین تسلیم کرنے سے انکار۔ افغان عوام طالبان پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

June 21, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد اور لبنان جنگ بندی جیسے اہم امور پر مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔

June 21, 2026

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔

June 19, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

June 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *