پاکستان کی معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد اور عالمی سطح پر اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ملک میں پہلی بار اپنی نوعیت کے منفرد ‘یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم’ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ دو روزہ اعلیٰ سطحی فورم 28 اور 29 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس کا باضابطہ افتتاح وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کریں گے۔
تاریخی پس منظر اور مقصد
یہ تاریخی ایونٹ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 60 سال سے زائد پر محیط مضبوط سفارتی اور اقتصادی تعلقات کا تسلسل ہے، جسے یورپی یونین کی حمایت اور رکن ممالک کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ فورم کا بنیادی مقصد دونوں خطوں کے کاروباری اداروں کے درمیان اعلیٰ سطحی مکالمے کو فروغ دینا، ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
تجارتی حجم اور مارکیٹ کی اہمیت
پاکستان، جو 25 کروڑ سے زائد صارفین کی منڈی اور جنوبی و وسطی ایشیا کو عالمی مارکیٹ سے جوڑنے والا اہم جغرافیائی مرکز ہے، یورپی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع تر مواقع پیش کرتا ہے۔ یورپی یونین اس وقت پاکستان کی دوسری بڑی تجارتی شراکت دار اور برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں 11.87 ارب یورو کے تجارتی حجم اور 15.3 فیصد حصے کے ساتھ مستحکم تعلقات موجود ہیں۔
سرمایہ کاری کا فریم ورک
اس فورم کے ذریعے ‘یورپی یونین–پاکستان بزنس نیٹ ورک’ کا آغاز کیا جائے گا، جو طویل المدتی تجارتی روابط کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ منظم ‘بی ٹو بی’ اور ‘بی ٹو جی’ پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک کھلے، مستحکم اور سہولت کار ملک کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
اصلاحات کی توثیق
اعلیٰ سطحی یورپی وفود کی شرکت پاکستان کی اصلاحات پر مبنی معاشی پالیسیوں اور بہتر ہوتے ہوئے سرمایہ کاری کے ماحول کی توثیق کرتی ہے۔ اس اشتراک سے یورپی یونین کو اپنی سپلائی چینز میں تنوع لانے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ پاکستان کے لیے جدید ٹیکنالوجی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔
دیکھیے: شہباز شریف کا یورپی کونسل کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال