راولپنڈی: سوشل میڈیا پر پاک فوج اور حساس اداروں کے درمیان مبینہ اختلافات سے متعلق گردش کرنے والی خبریں مکمل طور پر من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، جن کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا اور ریاستی اداروں کے اتحاد کو نشانہ بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ جھوٹا پروپیگنڈا کالعدم تنظیم ‘داعش خراسان’ کے ترجمان پلیٹ فارم ‘خراسان وائس’ کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے، جو افغانستان میں مقیم دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے مخصوص مذموم مقاصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے اس طرح کے جھوٹے دعوے پہلے بھی کیے جاتے رہے ہیں جن کا مقصد پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاک فوج اور تمام انٹیلی جنس ادارے ملکی سلامتی کے لیے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اعلیٰ قیادت کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کے دعوے سراسر لغو ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دشمن عناصر میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد اب ‘ہائبرڈ وار فیئر’ کا سہارا لے رہے ہیں، جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبریں پھیلا کر ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے دشمن ایجنڈے کا حصہ بننے والے پلیٹ فارمز پر کان نہ دھریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع سے آنے والی معلومات پر یقین کریں۔
دفاعی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم تنظیم کی جانب سے اس طرح کی من گھڑت خبریں ان کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک فوج اور حساس اداروں کا باہمی اشتراک ملک کی دفاعی لائن کی بنیاد ہے، اور دہشت گرد گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے اس نوعیت کے پروپیگنڈے کو عوام پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔