اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور خطے میں امن کے لیے مذاکرات و سفارت کاری کو ترجیح دیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے ملاقات کی، جس میں اہم علاقائی پیش رفت اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے، جس کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر اور پائیدار ذرائع ثابت ہو سکتے ہیں۔
U.S. Chargé d’Affaires Natalie A. Baker called on Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 today. Discussions covered recent regional developments.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 21, 2026
DPM/FM underscored Pakistan’s consistent emphasis on dialogue and diplomacy as the only… pic.twitter.com/1Roqj3R1gE
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ اس موقع پر امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خطے میں امن کے قیام اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کلیدی اور مثبت کردار کو سراہا۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور امریکی صدر کے حالیہ بیانات کے باعث غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے بھی فعال ہے اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سفارتی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی اپیل اس کی متوازن خارجہ پالیسی کی عکاس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کی جانب سے سفارت کاری پر اصرار ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی نئی جنگ کے حق میں نہیں ہے اور وہ ایران و امریکا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر کے عالمی برادری میں اپنی سفارتی اہمیت منوانا چاہتا ہے۔