لندن: پاکستانی نژاد برطانوی گلوکار زین ملک نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنی جڑوں سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں “آدھا پاکستانی” ہونے پر فخر ہے اور یہی پہچان انہیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔
اپنے انٹرویو کے دوران زین ملک کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کام کے ذریعے پاکستانی ثقافت کو عالمی سطح پر اس لیے پیش کرتے ہیں تاکہ اس سے جڑے غلط تاثرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی ثقافت کے بارے میں دنیا کو وضاحت دیتے ہوئے اچھا محسوس کرتے ہیں اور یہ شناخت ان کی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔
گلوکار کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مداحوں کی بڑی تعداد زین ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ گلوکار نے ماضی میں بھی کئی بار اپنی پاکستانی شناخت اور ثقافت کا کھل کر اظہار کیا ہے، جو ان کی اپنی جڑوں سے محبت کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا موقف ہے کہ زین ملک کو پاکستانی ہونا صرف اس وقت یاد آتا ہے جب انہیں اپنے کسی نئے البم کی تشہیر یا فروخت بڑھانی ہو۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے ان کے اس بیان کو تجارتی مقاصد سے جوڑتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
شوبز مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق زین ملک جیسے عالمی ستارے کا اپنی ثقافت کے حق میں بولنا بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے مثبت پیغام ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا سافٹ امیج بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔