مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کی آمد تاحال غیر یقینی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صورتحال واضح کر دی

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
عطا تارڑ کا بیان

سوشل میڈیا پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان بطور ثالث ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری و مذاکرات کے راستے پر گامزن ہے۔

April 21, 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کی جانب سے باضابطہ تصدیق کا تاحال انتظار ہے، جبکہ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کی علی الصبح ختم ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان بطور ثالث ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری و مذاکرات کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی، جس کے باعث جنگ بندی ختم ہونے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے قائل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ان مذاکرات کا انعقاد ناگزیر ہے اور پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کے حالیہ سخت بیانات اور ایران کی جانب سے خاموشی کے باعث مذاکراتی عمل پر غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے کی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

سفارتی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق وقت کی کمی تہران پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ جنگ بندی ختم ہونے سے قبل کوئی حتمی فیصلہ کرے۔ پاکستان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اب ایرانی جواب کا منتظر ہے، اور اگر ڈیڈ لائن تک وفد کی آمد یقینی نہ بنائی گئی تو خطے میں دوبارہ کشیدگی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

دیکھئیے:پاکستانی فوج اور حساس اداروں میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد، کالعدم تنظیم کا پروپیگنڈا بے نقاب

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *