تہران: ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ واشنگٹن کی حالیہ جارحانہ کارروائیاں اس کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا یقین نہیں ہوگا، ایران شرکت کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی، سمندری قزاقی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کھلے سمندروں میں تجارتی جہازوں پر حملے امریکا کے دوغلے معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران شروع سے ہی امریکا پر عدم اعتماد کا شکار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 40 دنوں کے دوران جارح فریق اپنے کسی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کے اہداف کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ ایران کا موقف ہمیشہ ذمہ دارانہ رہا ہے، تاہم سفارتی عمل کا بامقصد ہونا ضروری ہے اور تہران اپنی قوم سے اس حوالے سے مکمل شفافیت برقرار رکھے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق بین الاقوامی میڈیا میں مذاکرات کے حوالے سے بہت سی غلط بیانیاں کی جا رہی ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے جیسے ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا، اسے سرکاری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے گا، تاہم فی الوقت کسی وفد کی روانگی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق ایران کا یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکی صدر کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات اور بحری جہاز قبضے میں لینے کے واقعے کو مذاکراتی عمل میں رکاوٹ تصور کر رہا ہے۔