واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورہ پاکستان کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث ان کی اسلام آباد روانگی کا وقت فی الحال واضح نہیں ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز واشنگٹن میں مزید اعلیٰ سطح کے پالیسی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں نائب صدر خود بھی شریک ہوں گے۔ ان اجلاسوں کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہے۔ قبل ازیں توقع کی جا رہی تھی کہ جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے، تاہم اب شیڈول میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔
NEW: It is currently unclear when Vice President JD Vance will leave Washington for Pakistan, sources familiar with the talks tell me. The White House is planning to hold further meetings Tuesday in DC to discuss the path forward, *and Vance will be a part of them*, they said.
— Alayna Treene (@alaynatreene) April 21, 2026
A…
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی روانگی میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی جواب نہ دینا ہے۔ منگل کی صبح تک تہران نے دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے پاکستان بھیجنے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی تھی، جس کی وجہ سے واشنگٹن میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ بھی ایرانی وفد کے حوالے سے باضابطہ جواب کا انتظار ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ دوسری جانب جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں اب چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، جس نے مذاکراتی عمل کی کامیابی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
سفارتی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے حالیہ اجلاس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکا ایرانی ردعمل کے بغیر اپنے نائب صدر کو اسلام آباد بھیجنے کے حوالے سے محتاط ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے فوری طور پر شرکت کا اعلان نہ کیا تو نہ صرف جے ڈی وینس کا دورہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے بلکہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔