اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل ڈیڈ لائن کے قریب پہنچنے کے باوجود شدید غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں ایران کی جانب سے وفد بھیجنے میں ہچکچاہٹ نے واشنگٹن کے لیے سفارتی سبکی اور خطے کے لیے نئی کشیدگی کے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے نائب صدر کی قیادت میں وفد کے اعلان کے باوجود ایران کا جوابی ردعمل نہ دینا واشنگٹن کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں امریکا کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کرنا مزید دشوار ہو جائے گا، کیونکہ تہران اب بھی امریکی نیت پر شکوک کا اظہار کر رہا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی قیادت کو اپنے عوام کے سامنے یہ ثابت کرنے کے لیے کچھ ٹھوس امریکی یقین دہانیوں کی ضرورت ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے کھلنے اور بحری جہازوں کی ضبطگی کے واقعات کے بعد، یہ زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کسی باقاعدہ تعطل سے زیادہ ایک خطرناک جمود کی عکاسی کرتی ہے جو نہ مکمل امن ہے، نہ باقاعدہ جنگ اور نہ ہی مستحکم جنگ بندی۔ اگر ایران نے مقررہ ڈیڈ لائن تک وفد بھیجنے کا اعلان نہ کیا تو چند گھنٹوں میں ختم ہونے والی جنگ بندی کے بعد صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
سفارتی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر آج رات تک مذاکرات کی میز سجنے کی امید پیدا نہ ہوئی تو آنے والے دن خطے کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے انا اور عدم اعتماد کی پالیسی نے سفارت کاری کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف بڑی رعایتوں یا پھر براہ راست فوجی تصادم کی صورت میں ہی نکل سکتا ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے وفد بھیجنے میں تاخیر دراصل امریکا پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے، تاہم یہ جوا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد واشنگٹن نے سخت ایکشن لیا تو پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا اور خطہ ایک نئی بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔