تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرنا دراصل اعلانِ جنگ ہے اور یہ موجودہ جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا جنگ بندی کی اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد پابندیوں کو غیر مؤثر بنانا اور اپنے مفادات کا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔
Blockading Iranian ports is an act of war and thus a violation of the ceasefire.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 21, 2026
Striking a commercial vessel and taking its crew hostage is an even greater violation.
Iran knows how to neutralize restrictions, how to defend its interests, and how to resist bullying.
عباس عراقچی نے مزید واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھونس اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے اور اپنی بقا کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اشتعال انگیز اقدامات خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
ترجمان ایرانی دفتر خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے سمندری حدود میں ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور ایران اس کے خلاف ہر سطح پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے پہلے ہی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے انتباہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر جوابی حکمت عملی تیار کر رہا ہے، جس سے جنگ بندی ختم ہونے کے بعد خطے میں براہ راست فوجی تصادم کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔
دیکھئیے:جنگ بندی کی آخری رات: ایران کی خاموشی سے خطہ خطرناک صورتحال سے دوچار