افغانستان کی سیاسی شخصیات اور سابق اعلیٰ حکام کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی بیانیہ سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان کو اس کی موجودہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ تسلیم کرنے اور تاریخی سرحدی تنازعات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ افغانستان کے سابق نائب وزیر اطلاعات و ثقافت عبدالمنان شیوۂ شرق اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ترجمان مجیب الرحمٰن رحیمی نے واضح کیا ہے کہ اب ڈیورنڈ لائن کو ایک عالمی سرحد کے طور پر تسلیم کرنا ہی خطے کے مفاد میں ہے۔
محمد محقق کی تائید
افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے سابق نائب عبدالمنان شیوۂ شرق نے ‘اسپیس ایکس’ کے ایک حالیہ وائس سیشن میں ڈیورنڈ لائن کے حساس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے حزبِ وحدت اسلامی کے سربراہ محمد محقق کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔ شیوۂ شرق نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “ڈیورنڈ سرحد کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔” یاد رہے کہ اس سے قبل محمد محقق نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ڈیورنڈ لائن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے اور افغانستان کو اسے تسلیم کر لینا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔ شیوۂ شرق کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے اندر ڈیورنڈ لائن کو ہمیشہ ایک متنازع اور جذباتی موضوع کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
پشتونستان پر تنقید
سابق ترجمان مجیب الرحمٰن رحیمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک تفصیلی نوٹ میں پاکستان کے بعض حصوں کو افغانستان میں شامل کرنے کے مطالبات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس کی موجودہ سرحدوں کے ساتھ تسلیم کرنا ہی حقیقت پسندی ہے۔ مجیب الرحمان رحیمی کے مطابق “پشتونستان” کا مطالبہ اب کوئی قومی مطالبہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک محدود گروہ کا مؤقف ہے جسے دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آبادیاتی حقیقتیں
افغان رہنماء مجیط الرحمان رحیمی نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ پشتونستان یا سرحدی تبدیلیوں کا مطالبہ افغانستان کے بعض پشتون حلقوں کی جانب سے اٹھایا جاتا ہے، تاہم تاجک، ہزارہ، ازبک اور دیگر بڑی قومیتیں اب اس مطالبے کا حصہ نہیں رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان کی سیاسی و آبادیاتی حقیقتیں ان تاریخی دعوؤں سے اب مطابقت نہیں رکھتیں، اس لیے تقسیم اور پراکسی جنگوں کے بجائے مذاکرات اور باہمی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
تاریخی پس منظر اور موجودہ تناظر
پاکستانی علاقوں کو افغانستان میں شامل کرنے کا مطالبہ دونوں ممالک کے تعلقات میں دہائیوں سے ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں افغان سیاستدانوں کی جانب سے اس حقیقت کا اعتراف کہ “ہمیں کسی بھی ملک کے ساتھ کوئی سرحدی یا علاقائی تنازع نہیں رکھنا چاہیے”، ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، عبدالمنان شیوۂ شرق، مجیب الرحمٰن رحیمی اور محمد محقق جیسے رہنماؤں کا یہ مؤقف افغان سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے جہاں جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔