نئی دہلی: بھارت کے بڑے ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک ‘ون انڈیا’ کو ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی ذمہ داری خود کو ‘ٹرو مسلم افغانز کہلانے والے ایک گروپ نے قبول کر لی ہے۔ 30 ملین سے زائد فالوورز رکھنے والے اس نیٹ ورک کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہیکرز نے افغانستان کا اصل (سہ رنگی) جھنڈا لہرا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 21 اپریل کو ہونے والے اس حملے کے دوران ہیکرز نے افغان طالبان کی قیادت، بالخصوص ہیبت اللہ اخوندزادہ کو ایک سخت پیغام بھیجا ہے۔ ہیکرز نے طالبان اور مودی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ‘غیر قانونی’ قرار دیا ہے۔ ہیکرز کا موقف ہے کہ طالبان کی جانب سے بھارت کے ساتھ قربت افغان عوام کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتی۔
ون انڈیا کی اسکرینز اور ویب پیجز پر ہیکرز نے واضح پیغام درج کیا کہ وہ افغانستان اور بھارت کے موجودہ گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔ حملے کے دوران افغانستان کے سابقہ قومی پرچم کی نمائش اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ یہ گروپ موجودہ طالبان انتظامیہ کی پالیسیوں اور بھارت کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے روابط سے شدید نالاں ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ حملہ انتہائی منظم تھا جس نے نیٹ ورک کے بڑے ڈیٹا بیس اور نشریاتی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ بھارتی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیکرز کا تعلق کس مخصوص جغرافیائی خطے سے ہے، حالانکہ ان کا نام افغان نژاد ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، بھارت اور طالبان کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والے مذاکرات اور بھارتی وفود کے دورہ کابل نے کئی انتہا پسند اور قوم پرست گروہوں کو مشتعل کیا ہے، اور ‘ون انڈیا’ پر ہونے والا یہ حملہ اسی غصے کا اظہار معلوم ہوتا ہے۔
دیکھئیے:پہلگام کو ایک سال مکمل ہو گیا مگر بھارت آج بھی کوئی شواہد پیش نہیں کر سکا: عطا تارڑ