افغانستان کے سابق نائب صدر مارشل عبدالرشید دوستم کے میڈیا دفتر نے ایک اہم باضابطہ بیان جاری کیا ہے، جس میں ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کے حوالے سے معروف افغان رہنماء محمد محقق کے موقف کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ بیان میں محمد محقق کے اظہارِ خیال کو عقل، دانش اور منطق پر استوار قرار دیتے ہوئے اسے خطے کی سیاسی حقیقتوں کا درست ادراک قرار دیا گیا ہے۔
حقائق کا اعتراف
مارشل عبدالرشید دوستم کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈیورنڈ لائن کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مباحثے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن استاد محقق جیسے بااثر اور قد آور رہنماء کا اس معاملے پر جرات مندانہ اور واضح لہجہ ان کی گہری سیاسی و سماجی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بیان کے مطابق تلخ حقائق کو تسلیم کرنا ہی ایک حقیقی اور دور اندیش رہنما کی پہچان ہوتی ہے، اور اسی جرات مندی نے عوامی سطح پر ان کے لیے حمایت کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
پاک افغان تعلقات پر اثرات
افغان قیادت کے اس اہم اعتراف کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سرحدوں کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعات کے حل میں مدد ملے گی اور باہمی تعلقات میں بہتری کے نئے باب کھلیں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علاقائی استحکام کے لیے سرحدوں کی حرمت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ناگزیر تصور کیا جا رہا ہے۔