کابل: افغان طالبان کے وزیرِ سرحدات نور اللہ نوری نے پاکستان کے خلاف سفارتی آداب سے گری ہوئی انتہائی شرمناک اور اشتعال انگیز بیان بازی کی ہے، جس پر پاکستانی عوام اور دفاعی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ صوبہ بدخشان کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے نور اللہ نوری نے پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کی اور من گھڑت الزامات عائد کیے۔
افغان وزیر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان کی مبینہ “جارحیت” کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے پاکستان کے ریاستی نظام کو برطانوی قانون سے جوڑنے کی کوشش کی اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے گمراہ کن دعوے کیے۔ ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق ایک پڑوسی ملک کے وزیر کی جانب سے ایسی غیر ذمہ دارانہ زبان پاک افغان تعلقات کو مزید کشیدہ کرنے کی سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے۔
Pakistan’s Army and Intelligence Ready to Submit Their Women to the US for Money, Says Taliban Minister
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) April 23, 2026
Noorullah Noori, the Taliban Border Minister, says that foreign intelligence intends to create various conspiracies inside Afghanistan.
During a visit to Badakhshan Province,… pic.twitter.com/TDPTDv3h18
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت کی جانب سے ایسے بیانات درحقیقت افغانستان کی داخلی ناکامیوں اور بین الاقوامی تنہائی سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان عوام کا خیر خواہ رہا ہے، لیکن افغان وزراء کی جانب سے مسلسل پاکستان مخالف بیانیے اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسی گٹھیا بیان بازی کا مقصد صرف سرحد پار دہشت گردی کو جواز فراہم کرنا ہے۔
پاکستان کے دفاعی تجزیہ کاروں نے نور اللہ نوری کے بیان کو سفارتی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ذمہ دار ریاست کا لبادہ اوڑھنے والے گروہ کو بین الاقوامی آداب سیکھنے کی ضرورت ہے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس توہین آمیز رویے پر افغان حکومت سے سخت احتجاج کیا جائے اور واضح کیا جائے کہ پاکستان اپنی سالمیت اور اداروں کے خلاف ایسی ہرزہ سرائی کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔
دیکھئیے:پاکستان سے افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری، انسانی حقوق کی تنظیموں کے الزامات مسترد کر دیے گئے