واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے انتہائی منظم بین الاقوامی کاروائی کے ذریعے غیر قانونی فینٹانائل کی اسمگلنگ اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مواد کی سپلائی چین کو توڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نیٹ ورک کے تانے بانے بھارت، گوئٹے مالا اور میکسیکو سے ملتے ہیں، جو براہِ راست امریکی نامزد دہشت گرد تنظیم ‘سینالوآ کارٹل’ کی معاونت کر رہا تھا۔
دہشت گرد تنظیم کی سہولت کاری
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان اور ٹومی پگٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ نیٹ ورک فینٹانائل جیسی مہلک منشیات کی تیاری کے لیے ضروری ‘پری کرسر کیمیکلز’ کی عالمی سطح پر نقل و حمل کا ذمہ دار تھا۔ امریکہ نے اس نیٹ ورک سے منسلک افراد اور اداروں پر فوری طور پر ہدفی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم عالمی منشیات کی فراہمی کو روکنے اور امریکی عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا۔
The Trump Administration is disrupting a transnational illicit fentanyl network spanning India, Guatemala, and Mexico that supplies precursor chemicals to the Sinaloa Cartel, a U.S.-designated Foreign Terrorist Organization.
— Tommy Pigott (@StateDeputySpox) April 23, 2026
بھارتی شمولیت
اس معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو اس غیر قانونی سپلائی چین میں بھارت کی شمولیت ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک ابھرتی ہوئی بڑی معیشت کے لیے، جو اس وقت یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی کوششوں میں مصروف ہے، اس طرح کے مجرمانہ نیٹ ورکس کا حصہ بننا انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت امریکہ کے ساتھ توانائی اور دیگر حساس شعبوں میں تعاون بڑھانے کا دعویدار ہے، مگر حالیہ واقعے نے ان تمام دعوؤں اور بھارت کے اسٹریٹجک اعتبار کو دھچکا پہنچایا ہے۔
بھارت میں منشیات نیٹ ورک
رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد کے ماحول میں، اس قسم کے بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک کا بھارتی سر زمین سے جڑا ہونا نئی دہلی کی ریگولیٹری نگرانی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی اپنی سرحدوں کے اندر غیر قانونی سرگرمیوں پر گرفت کمزور ہے، جو عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
تضادات کا انکشاف
واشنگٹن کے اس سخت اقدام نے بھارت کی ایک “ذمہ دار عالمی شراکت دار” کی ساکھ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ عالمی برادری اب بھارت کی جانب سے منشیات کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے وعدوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ اس واقعے نے یہ واضح سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بھارت واقعی منشیات کی روک تھام کے عالمی ایجنڈے پر مخلص ہے یا اس کی سرزمین اب بھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے لیے سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔