اسلام آباد: پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ ان اہم گفتگوؤں میں خطے کی تازہ ترین صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ایرانی خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق ان رابطوں کا مقصد علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیرِ خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سرحدوں کی صورتحال اور دفاعی تعاون پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔
#Pakistan's Army Chief, Field Marshal Asim Munir and Pakistan's Deputy PM and Foreign Minister @MIshaqDar50 has held separate telephone conversations with Iran's Foreign Minister @araghchi where they spoke about regional developments and issues related to the ceasefire as per…
— Anas Mallick (@AnasMallick) April 24, 2026
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ پر ایران کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں کہا کہ غزہ اور لبنان سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں فوری جنگ بندی انسانی بنیادوں پر ناگزیر ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ مسلم ممالک کو عالمی سطح پر امن کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
ان رابطوں کو سیاسی مبصرین انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ خطے میں تناؤ کی لہر مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے یہ مذاکرات ثابت کرتے ہیں کہ دونوں ممالک علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے ایک دوسرے کے موقف کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری انسانی المیے کو ختم کرنا اور سرحد پار تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے تحت تمام برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستانی قیادت کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہا اور مستقبل میں بھی اس طرح کے رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دیکھئیے:ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان