امریکی صحافی جیرمی سکاہل کی جانب سے ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر حالیہ تنقید کو سفارتی ماہرین نے ایک پیچیدہ عمل کی یکطرفہ اور جانبدارانہ تشریح قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
جیرمی سکاہل کا بیانیہ ٹھوس شواہد کے بجائے محض مفروضوں پر مبنی ہے، جو زمینی حقائق کے بجائے پاکستان مخالف مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی تنازع میں ثالث کا بنیادی کام صرف مواصلت کی راہ ہموار کرنا ہوتا ہے، حتمی نتائج کی ضمانت دینا نہیں۔
🇵🇰 Jeremy Scahill says Pakistan’s role in the Iran talks is under scrutiny after relaying assurances that did not materialize.
— Drop Site (@DropSiteNews) April 22, 2026
He reports Iranian officials were told Trump would “lift the blockade” on the Strait of Hormuz and extend the ceasefire before talks resume. Instead,… https://t.co/vrgGUD36As pic.twitter.com/E0a5D1M4rO
پاکستان کا مشکل ترین حالات میں موثر سفارتی سہولت کاری کا ایک طویل اور کامیاب تاریخی ریکارڈ موجود ہے۔ 1970 کی دہائی میں امریکہ اور چین کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات سے لے کر 1988 کے جنیوا معاہدات اور 2020 کے دوحہ امن مذاکرات تک، پاکستان ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد ثالث ثابت ہوا ہے۔ ان تمام کیسز میں پاکستان کا کردار نتائج پر کنٹرول حاصل کرنا نہیں بلکہ فریقین کو مکالمے کے قابل بنانا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اور ایرانی حکام نے متعدد بار پاکستان کی ان کوششوں کا سرکاری سطح پر شکریہ ادا کیا ہے، جو امن دشمن عناصر کے لیے ہمیشہ تشویش کا باعث رہا ہے۔
ایران اور امریکہ جیسے چار دہائیوں پرانے حریفوں کے درمیان براہِ راست بات چیت ناممکن ہونے کی صورت میں رابطے کا تسلسل برقرار رکھنا بذاتِ خود ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ پاکستان کا کردار ایک ایسے سہولت کار کا ہے جو اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے مکالمے کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ جیرمی سکاہل جیسے نقادوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک ثالث صرف پیغام رساں ہوتا ہے، وہ کسی ریاست کے فیصلوں کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ اگر فریقین کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے یا نتائج توقع کے مطابق نہیں نکلتے، تو اس کی ذمہ داری براہِ راست ان ممالک پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ اس سہولت کار پر جو صرف ایک پل کا کام کر رہا ہے۔
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کے کردار کو “سفارتی ناکامی” قرار دینا بین الاقوامی سیاست کی بنیادی حرکیات سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ پاکستان کی کوششیں کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کے لیے نہیں بلکہ مجموعی علاقائی استحکام کے لیے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہوں، پاکستان کی موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔