افغانستان کے صوبہ نیمروز میں ہونے والے مبینہ ڈرون حملے میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا اہم اور انتہائی مطلوب کمانڈر مہران لاشاری ہلاک ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کاروائی پاک۔ افغان سرحد سے متصل افغانستان کے حساس سرحدی صوبے نیمروز میں کی گئی۔
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ڈرون حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں مہران لاشاری سوار تھا۔ یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان عسکریت پسندوں کی نقل و حمل کے حوالے سے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ہلاکت کی تصدیق اور طالبان کا کردار
اطلاعات کے مطابق حملے کے فوراً بعد افغان طالبان کے حکام نے زخمی کمانڈر مہران لاشاری کو قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں وہ کئی روز تک زیرِ علاج رہا۔ تاہم، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاشاری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔ کئی روز کی غیر یقینی صورتحال کے بعد اب اس کی ہلاکت کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔
Top BLA Commander Mehran Lashari Reportedly Killed in Drone Strike in Afghanistan’s Nimroz
— Afghan Times (@AfghanTimes7) April 23, 2026
According to incoming reports, a top commander of the internationally designated militant organization Balochistan Liberation Army (BLA), Mehran Lashari, has reportedly been killed in a… pic.twitter.com/ozFZwAXEVc
مہران لاشاری کا پس منظر
مہران لاشاری کا شمار بلوچستان لبریشن آرمی کے صفِ اول کے کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ وہ پاکستان کو مختلف سنگین دہشت گردانہ کارروائیوں، سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں انتہائی مطلوب تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس کی ہلاکت بی ایل اے کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومتی مؤقف اور خاموشی
پاکستان کی جانب سے تاحال اس ڈرون حملے کی باضابطہ طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی سرکاری بیان جاری کیا گیا ہے۔ تاہم سرحدی علاقوں میں ہونے والے اس حملے اور مہران لاشاری کی ہلاکت کو خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عسکری اور سفارتی حلقوں کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔