خطے میں ایک مخصوص طرزِ عمل اب واضح ہو چکا ہے۔ جب بھی پاکستان کوئی ایسی کامیابی حاصل کرتا ہے جو بھارت کے برسوں سے تراشے گئے علاقائی بیانیے کو متاثر کرتی ہو، فوراً کسی مغربی جریدے میں ایک ایسا مضمون نمودار ہو جاتا ہے جو قارئین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ پاکستان کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل میں سدانند دھومے کی تازہ ترین پیشکش، بعنوان “اسرائیل سے نفرت پاکستان کو پیچھے دھکیل رہی ہے”، اسی مخصوص طرزِ عمل کی ایک نئی کڑی ہے۔
دھومے کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پاکستان کا انکار ایک ایسے نظریاتی جنون کی عکاسی کرتا ہے جو اس کے اداروں کو کرپٹ، بین الاقوامی شراکت داروں کو متنفر اور اس کی معاشی و سفارتی ترقی کو مفلوج کر رہا ہے۔ وہ پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بھارت کی پیروی کرے اور معنی خیز ترقی کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ایک ناگزیر شرط کے طور پر قبول کرے۔
سابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے اس تحریر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک “بھارتی عذر خواہ” کی کوشش قرار دیا، جو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری امن عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا:
“یہ ایک ایسے بھارتی عذر خواہ کی جانب سے لکھا گیا ‘ہٹ پیس’ ہے جو پاک-امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے شدید پریشان ہے۔ قیامِ اسرائیل سے لے کر اب تک فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم وہ اصل وجہ ہے جس کی بنا پر اسے عالمِ اسلام اور اب پوری دنیا میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔”
ایک مخصوص ایجنڈے کا حامل تھنک ٹینک
مشہور مصنف، اسٹریٹجسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے سابق نمائندے ڈین قیوم نے اس مضمون کا بھرپور ردِ عمل دیا، جسے ہزاروں قارئین نے سراہا۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ تحریر اس بے چینی کا اظہار ہے کہ جس ملک (پاکستان) کو تنہا کرنے کے لیے بھارت نے برسوں محنت کی، وہ آج دنیا کا سب سے اہم سفارتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
دھومے ‘امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ’ سے وابستہ ہیں، جسے آزاد میڈیا مانیٹرز خارجہ پالیسی کے معاملات میں اسرائیل نواز ادارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ وہی ادارہ ہے جہاں عراق جنگ سے پہلے رچرڈ پرل اور جان بولٹن جیسی شخصیات مقیم تھیں۔ اس کا مڈل ایسٹ پروگرام ان افراد نے تشکیل دیا جن کے براہِ راست مراسم اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس سے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر پاکستانی معیشت پر مبنی یہ مضمون ٹیکس اصلاحات، توانائی کے بحران یا برآمدات کے بجائے صرف اسرائیل کے گرد گھومتا ہے، جبکہ ماہرینِ معاشیات کے نزدیک پاکستان کی معاشی رکاوٹیں کچھ اور ہی ہیں۔
کمزور معاشی دلائل
ورلڈ بینک کے اعداد و شمار دھومے کے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3 فیصد رہی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 20 فیصد اضافہ ہوا اور ترسیلاتِ زر 35 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو گئیں۔ تمام عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے معاشی منظرنامے کو بہتر قرار دیا ہے۔ پاکستان کے حقیقی چیلنجز توانائی کا گردشی قرضہ، ٹیکسوں کا محدود دائرہ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والا 30 ارب ڈالر کا نقصان ہے، جن کا دھومے نے تذکرہ تک نہیں کیا۔
بھارت کا اسٹریٹجک شیش محل
بھارت کی اسرائیل نوازی کی تقلید کا مشورہ بھی حقائق سے دور ہے۔ بھارت نے 1992 میں اسرائیل سے تعلقات استوار کیے اور اب وہ اس کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار ہے۔ اس تعلق کا ثمر ‘پیگاسس اسپائی ویئر’ کی صورت میں نکلا جسے بھارتی صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات نے بھارت کو علاقائی اثر و رسوخ تو نہیں دیا، بلکہ اسے ہتھیاروں کی ایسی وابستگی میں جکڑ دیا ہے جہاں وہ بین الاقوامی سطح پر خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔
عمر قریشی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: “ایک زیادہ حقیقت پسندانہ مضمون پاکستان کے بارے میں بھارت کے دیوانہ وار جنون پر ہونا چاہیے تھا۔”
تاریخ کا انتخاب محض اتفاق نہیں
یہ مضمون 22 اپریل کو شائع ہوا، جب اسلام آباد 1979 کے بعد پہلی بار امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کا بطورِ ثالث ابھرنا اس بھارتی بیانیے کے لیے موت ہے جو دو دہائیوں سے مغرب میں پھیلایا جا رہا تھا کہ پاکستان ایک ناقابلِ اعتبار ریاست ہے۔ یہ بیانیہ اس وقت مکمل طور پر دم توڑ گیا جب ایران کے سفیر نے واضح کیا کہ تہران “پاکستان کے علاوہ کہیں اور مذاکرات نہیں کرے گا، کیونکہ ہمیں صرف پاکستان پر بھروسہ ہے۔”
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان دنیا کو اس کی اصل صورت میں دیکھ رہا ہے؟ ایک ایسا ملک جس پر امریکہ اور ایران 47 سال بعد پہلی ملاقات کے لیے اعتماد کرتے ہیں، وہ یقیناً حقائق سے واقف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئی دہلی بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟