اسلام آباد: حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک مختصر ٹیم کے ہمراہ آج رات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اہم پیش رفت آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ایرانی وزیرِ خارجہ کی کچھ دیر قبل ہونے والی تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کے فوراً بعد سامنے آئی ہے، جس میں علاقائی صورتحال اور جنگ بندی پر مشاورت کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد امن مذاکرات’ کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں دیرینہ حریفوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنا اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ امریکہ کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیمیں اس اہم مذاکراتی عمل کی تیاریوں کے سلسلے میں پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا ایک بار پھر عالمی مذاکرات کا مرکز بننا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور علاقائی ثالث کے طور پر اس کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی وقار کا ثبوت ہے۔