عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔

April 26, 2026

اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

April 26, 2026

یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔

April 26, 2026

انہوں نے تلخ لہجے میں کہا کہ جن لوگوں کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں، انہیں بااختیار بنا دیا گیا ہے، جو کہ نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

April 26, 2026

منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ فلم سٹی میں شوٹنگ کے لیے تمام ضروری سہولتیں، مختلف سیٹس اور ایک مرکزی جھیل بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تقریبات اور ایوارڈ شوز کے لیے بڑے کنونشن ہالز، میڈیا ٹریڈ ہب اور فنونِ لطیفہ کی تربیت کے لیے فلم و میوزک اسکول بھی اس عظیم الشان منصوبے کا حصہ ہوں گے۔

April 26, 2026

وزارتِ خارجہ کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں چینی شہر ارمچی میں طالبان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

April 26, 2026

واشنگٹن ڈنر میں ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ؛ حملہ آور پکڑا گیا، صدر ٹرمپ محفوظ، پاکستانی حکومت کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گرفتار حملہ آور کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے، تاہم ان کے نزدیک اس حملے کا ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔
ٹرمپ پر فائرنگ

انہوں نے انکشاف کیا کہ حملہ آور کے پاس متعدد ہتھیار تھے اور اس نے مرکزی دروازے کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر ایک اہلکار کو گولی ماری، جو خوش قسمتی سے بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔

April 26, 2026

واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے (کرسپونڈنٹس ڈنر) کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک فائرنگ کی آواز گونجی، جس کے بعد سیکرٹ سروس کے اہلکار فوری طور پر صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر لے گئے۔ اس دوران 2,600 سے زائد شرکاء میں ہلچل مچ گئی اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے میزوں کے نیچے چھپ گئے۔

صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا بیان میں سیکرٹ سروس کی بہادری کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور نے محض 15 گز کی دوری سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حملہ آور کے پاس متعدد ہتھیار تھے اور اس نے مرکزی دروازے کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر ایک اہلکار کو گولی ماری، جو خوش قسمتی سے بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گرفتار حملہ آور کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے، تاہم ان کے نزدیک اس حملے کا ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔

صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے واشنگٹن میں پیش آنے والے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور صدر ٹرمپ کی خیریت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے تشویشناک واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتا ہوں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے  کہا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء خیریت سے ہیں۔

واقعے سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ اور ترجمان کیرولائن لیویٹ کو ایک پرچی دکھائی گئی تھی، جس کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے۔ صدر ٹرمپ نے مشتبہ حملہ آور کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی شام تھی لیکن وہ اس طرح کے واقعات سے ڈر کر اپنی تقاریب منسوخ نہیں کریں گے۔ انہوں نے ‘شو جاری رکھنے’ کی سفارش کی ہے، تاہم اب مزید تمام اقدامات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات کے مطابق کیے جائیں گے۔

دیکھئیے:پاکستان کا نیا اثر و رسوخ اسے ایک نازک جغرافیائی سیاسی جال کے مرکز میں لے آیا ہے

متعلقہ مضامین

عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کر دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔

April 26, 2026

اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

April 26, 2026

یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔

April 26, 2026

انہوں نے تلخ لہجے میں کہا کہ جن لوگوں کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں، انہیں بااختیار بنا دیا گیا ہے، جو کہ نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

April 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *