مظفرآباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سیاسی قوت کے مظاہرے کی کوششیں ادھوری رہ گئیں، جہاں جلسہ گاہ میں عوام کی عدم دلچسپی کے باعث سینکڑوں خالی کرسیاں پارٹی قیادت کا منہ چڑاتی رہیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی روایتی سیاسی لاؤ لشکر، بینرز اور میڈیا کی بھاری موجودگی کے ساتھ پہنچے، لیکن میدان میں لگا ہوا پنڈال ان کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
انتظامیہ کی جانب سے بڑے مجمع کا تاثر دینے کے لیے 1,100 سے زائد کرسیاں لگائی گئی تھیں، تاہم جلسے کے عروج پر بھی صرف 700 سے 850 کے قریب افراد ہی پنڈال میں موجود رہے۔ جلسہ گاہ کی صورتحال یہ تھی کہ 300 سے زائد کرسیاں مسلسل خالی پڑی رہیں، جس نے تحریک انصاف کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا کہ وہ اب بھی خیبر پختونخوا کی سرحدوں سے باہر عوامی متحرک کرنے کی وہی سکت رکھتی ہے جو ماضی میں اس کا خاصہ رہی ہے۔
PTI walked into Muzaffarabad aiming to project strength beyond KP—but ended up exposing its own disconnect from the ground. With over 1,100 chairs laid out and heavy political optics in place, the turnout of barely 700–850 people turned the event into an unintended reality check.… pic.twitter.com/rq56KCrRoM
— Hiba Bukhari (Fans) (@hibaQbukhari) April 25, 2026
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مظفرآباد کا یہ ناکام ایونٹ پی ٹی آئی کے لیے محض ایک جلسہ نہیں بلکہ ایک سنگین ‘سیاسی انتباہ’ ہے۔ جو جماعت کبھی مینارِ پاکستان جیسے بڑے میدان بھرنے کا دعویٰ کرتی تھی، اس کا 1,100 کرسیاں بھرنے کے لیے جدوجہد کرنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ پارٹی کا زمینی تنظیمی ڈھانچہ اور عوامی اثر و رسوخ اب ویسا نہیں رہا۔ خالی کرسیوں نے وہ پیغام دے دیا جو کوئی بھی تقریر نہیں چھپا سکتی تھی: تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کا گراف اب واضح طور پر نیچے آ رہا ہے۔
یہ صورتحال پی ٹی آئی قیادت کو کچھ تلخ سوالات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا پارٹی کا اپنے کارکنوں سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے؟ اور کیا اب لوگ اس کے بیانیے پر گھروں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں؟ مظفرآباد کے اس ‘پاور شو’ نے ثابت کر دیا کہ مقبولیت کے دعوے اسٹیج سے نہیں بلکہ زمین پر عوام کی موجودگی سے ثابت ہوتے ہیں، اور فی الحال پی ٹی آئی کا گراؤنڈ موبلائزیشن نیٹ ورک مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے۔