کابل: افغانستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک انتہائی اہم اور دور رس تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب احمد مسعود کی قیادت میں کام کرنے والے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ، قانونی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحد کے طور پر قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
این آر ایف کی لیڈرشپ کونسل کے سینیئر رکن عبدالحفیظ منصور نے اس حوالے سے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فرنٹ کے نقطہ نظر سے ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ اب مکمل طور پر حل ہو چکا ہے۔ یہ بیان افغانستان کی دہائیوں پرانی روایتی خارجہ پالیسی سے ایک بڑا انحراف ہے، جہاں ماضی کی حکومتیں اور موجودہ طالبان انتظامیہ اس سرحد کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔
The National Resistance Front of Afghanistan(#NRF), led by Ahmad Massoud, recognizes the Durand Line as an official, legal, and internationally recognized border. This reflects an important political reality: nearly 80% of the people of Afghanistan have no territorial or border… pic.twitter.com/tjb6C5fZcp
— ڪج ڪلاه (@kachkula) April 26, 2026
این آر ایف کے اس فیصلے کو خطے میں “سیاسی حقیقت پسندی” کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ فرنٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ موقف افغانستان کے ان 80 فیصد عوام کی حقیقی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا پاکستان کے ساتھ کوئی سرحدی یا علاقائی تنازع نہیں ہے اور جو دونوں برادر ممالک کے درمیان پرامن، تعمیری اور دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سرحدی تنازع کو ختم کرنے سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان برسوں پرانی بداعتمادی کا خاتمہ ہوگا بلکہ اس سے معاشی انضمام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور علاقائی استحکام کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ مختلف سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی جانب سے سفارتی صبر اور قانونی وضاحت کو علاقائی اشتعال انگیزی پر ترجیح دینا اس بات کی علامت ہے کہ افغان قیادت کا ایک بڑا حصہ اب ماضی کے جذباتی تنازعات کے بجائے ریاست کی تعمیرِ نو اور پڑوسیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
اس جرات مندانہ فیصلے سے مستقبل میں کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کو ایک نئے اور مستحکم فریم ورک کے تحت استوار کرنے میں مدد ملے گی، جو پورے خطے کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔