اسلام آباد: صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے تیل بردار بحری جہاز پر حملہ کر کے اسے اغوا کر لیا ہے، جس میں 11 پاکستانی عملے کے ارکان سوار ہیں۔ بحری ذرائع کے مطابق ‘آنر 25’ نامی اس جہاز پر 21 اپریل کو حملہ کیا گیا، جس کے بعد مسلح قزاقوں نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ وزارتِ بحری امور نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مغوی پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریسکیو آپریشن کو تیز اور مربوط بنایا جائے۔ وزارتِ بحری امور کے مطابق، وہ تمام متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکومت نے دفترِ خارجہ سے بھی درخواست کی ہے کہ صومالی حکومت کے ساتھ فوری سفارتی رابطہ قائم کیا جائے تاکہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور بحفاظت رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں بحیرہ ہند میں بین الاقوامی بحری افواج کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قزاقوں نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ تیز کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ 2024 میں بھی صومالی قزاقوں نے بنگلہ دیشی جہاز کو اغوا کیا تھا جسے بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ پاکستان اب عالمی اداروں اور صومالی حکام کے اشتراک سے اپنے شہریوں کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن سفارتی و تادیبی راستہ اختیار کر رہا ہے۔
دیکھئیے:صدر زرداری کا دورہ چین: کراچی میں پانی کی فراہمی اور زرعی ترقی کے لیے 3 اہم معاہدوں پر دستخط