اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھارتی سرپرستی میں چلنے والے افغان میڈیا کے ان دعووں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں کنڑ میں پاکستانی حملے کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا۔ پیر کے روز جاری کردہ ایک سخت ردِعمل میں ترجمان وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ افغان میڈیا ‘تصوراتی حملوں’ کی خبریں پھیلا کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
وزارتِ اطلاعات کے بیان میں افغان طالبان انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ افغان رجیم کے پاس اپنے عوام کو دینے کے لیے نہ تو کوئی سروس ہے، نہ فلاحی منصوبہ اور نہ ہی بہتر گورننس، اسی لیے وہ صرف غلط اطلاعات اور نفرت پر مبنی بیانیے پر انحصار کر رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان نے اپنے بھارتی پروپیگنڈا آقاؤں سے صرف جھوٹ بولنا اور ‘فالس فلیگ آپریشنز’ کی سیاست سیکھی ہے تاکہ اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹا سکیں۔
حکومتی اعلامیے میں دوٹوک موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان “آپریشن غضب للحق” کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا مکمل حق رکھتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان جہاں اور جب بھی افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا، تو اس کا باقاعدہ اعلان کرے گا۔ پاکستان ماضی کی طرح اپنی ہر کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کی روایت برقرار رکھے گا اور کسی بھی حملے کو ڈھکا چھپا نہیں رکھا جائے گا۔
سفارتی ماہرین اس بیان کو افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی اور بھارتی مداخلت کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حقائق پر مبنی پالیسی کو ہی ترجیح دی جائے گی۔