ضلع باجوڑ کے لغاری سیکٹر میں گزشتہ رات افغان فورسز نے ایک بار پھر اشتعال انگیزی کرتے ہوئے سویلین آبادی اور مقامی بازار کو نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق افغان حدود سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
تجارتی مراکز اور املاک کو نقصان
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کی جانب سے داغے گئے گولے اور فائرنگ براہِ راست لغاری کے تجارتی مرکز اور بازار میں لگی، جس سے متعدد دکانوں، گوداموں اور دیگر نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق اس اچانک حملے سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو گیا ہے، تاہم خوش قسمتی سے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
Alert: Afghan forces targeted civilian areas and marketplaces in the Lagharai area of Bajaur, causing damage to shops and other property belonging to locals. pic.twitter.com/AGpQxQD9xu
— Mahaz (@MahazOfficial1) April 28, 2026
پاک فوج کی جوابی کاروائی
سرحد پر تعینات پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان اشتعال انگیزی کا مؤثر اور دندان شکن جواب دیا ہے۔ ‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت جاری کاروائیوں میں پاک فوج نے ان افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا جہاں سے شہری آبادی پر فائرنگ کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق جوابی کاروائی میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچا ہے جس کے بعد سرحد پار سے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے۔
سکیورٹی ہائی الرٹ
اس واقعے کے خلاف مقامی آبادی اور تجارتی تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔ سیکیورٹی حکام نے پورے لغاری سیکٹر اور ملحقہ سرحدی علاقوں میں نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے فورسز کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔