دبئی: متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز تیل برآمد کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم ‘اوپیک’ اور ‘اوپیک پلس’ سے فوری علیحدگی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ غیر متوقع فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ نے پہلے ہی عالمی معیشت کو توانائی کے ایک تاریخی جھٹکے سے دوچار کر رکھا ہے۔ یو اے ای کے اس اقدام کو تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد کے لیے ایک کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں تیل کی قیمتوں اور عالمی رسد کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے یہ سخت فیصلہ عرب ممالک اور خلیج تعاون کونسل کے رویے پر تحفظات کے بعد کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایک حالیہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے خلیجی اور عرب ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امارات پر ہونے والے متعدد حملوں کے باوجود برادر ممالک نے سیاسی اور عسکری طور پر وہ ساتھ نہیں دیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ قرقاش کے مطابق، خلیج تعاون کونسل کا حالیہ موقف اپنی تاریخ کے کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے، جو کہ یو اے ای کے لیے انتہائی مایوس کن ہے۔
دوسری جانب، آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی ترسیل کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جہاں سے دنیا بھر کی خام تیل اور ایل این جی کی رسد کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اوپیک پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ تنظیم تیل کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا کر دنیا کا استحصال کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک کو دی جانے والی امریکی فوجی مدد کو تیل کی قیمتوں سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ ایک طرف ان کا دفاع کرتا ہے تو دوسری طرف یہی ممالک قیمتیں بڑھا کر امریکہ کا استحصال کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی علیحدگی سے اوپیک کے اندرونی توازن میں بڑی تبدیلی آئے گی اور عالمی توانائی کی سیاست میں نئے بلاک بننے کا امکان ہے۔
دیکھئیے:پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے تمام ڈپازٹس واپس کر دیے؛ تین ارب پنتالیس کروڑ ڈالر کی ادائیگی مکمل