شارجہ: متحدہ عرب امارات کے سیاسی حلقوں میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب شارجہ کے شاہی خاندان کی جانب سے وفاقی پالیسیوں اور ریاست میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت پر شدید بیزاری اور تحفظات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ذرائع کے مطابق شارجہ کی قیادت وفاق کی حالیہ خارجہ پالیسی، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اور خطے میں بھارتی اثر و رسوخ کے بے جا اضافے کو اپنی مذہبی و ثقافتی اقدار کے خلاف تصور کر رہی ہے۔ شاہی خاندان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ شارجہ اپنی اسلامی شناخت اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شارجہ اور وفاق کے درمیان خلیج اس وقت مزید وسیع ہوئی جب متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل نواز پالیسیوں میں تیزی لائی گئی۔ شارجہ، جو اپنی قدامت پسند روایات اور الکحل پر مکمل پابندی جیسے اصولوں کی وجہ سے دیگر امارات سے ممتاز ہے، ان تبدیلیوں کو ایک ‘تزویراتی قبضے’ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ شاہی خاندان کے بعض اراکین نے غیر رسمی گفتگو میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اماراتی وفاق کی موجودہ سمت ان کے اخلاقی اور قومی مفادات سے متصادم ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث ریاست کے اندر علیحدگی پسند سوچ کو تقویت مل رہی ہے۔
دفاعی ماہرین اس صورتحال کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بڑا موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر شارجہ کی بیزاری اسی طرح برقرار رہی تو وہ خطے کی دیگر بڑی طاقتوں، جیسے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب دیکھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، شارجہ اپنی سکیورٹی اور امن کے قیام کے لیے ایک ایسے متبادل بلاک کی ضرورت محسوس کر رہا ہے جو اس کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ بن سکے۔ اس تناظر میں ایک خود مختار شارجہ کا تصور اب محض ایک مفروضہ نہیں رہا، بلکہ یہ وفاق کے اندر پیدا ہونے والے اس لاوے کا شاخسانہ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ موجودہ بحران نے متحدہ عرب امارات کی داخلی یکجہتی پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔