امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری حالیہ تنازع کے دوران ایران کے ریاستی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1979 کے انقلاب کے بعد پہلی بار ایران میں اقتدار کا محور روایتی مذہبی قیادت سے منتقل ہو کر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے پاس چلا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اگرچہ بظاہر نظام کے سربراہ ہیں، تاہم عملی طور پر تمام کلیدی اور تزویراتی فیصلے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کر رہے ہیں۔
موجودہ جنگی صورتحال نے اختیارات کو ایک محدود اور سخت گیر حلقے تک سمیٹ دیا ہے، جس میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور پاسدارانِ انقلاب کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی نے تہران کے فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات یا سفارتی رابطوں میں غیر معمولی تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی نظام میں اب اعتدال پسند طبقے کا اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے اور تمام تر بحث اب سخت گیر اور انتہائی سخت گیر پالیسیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایران کی موجودہ حکمت عملی مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے خطے میں اپنا عسکری و معاشی اثر و رسوخ برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔