شیخ ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز میں فتنۃ الہندستان کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایت کا انکشاف ہوا ہے۔

September 20, 2026

تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان، سردار محمد یوسف نے کہا کہ آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی ہے۔

September 20, 2026

قلات کے قریب این 25 پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 5 دہشتگرد ہلاک اور 23 مغوی بازیاب کرالیے گئے، جبکہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

September 20, 2026

العربیہ کو دیے گئے ذبیح اللہ مجاہد کے وضاحتی انٹرویو اور سابق افغان وزیر مولوی عبدالکبیر کی جانب سے مسجد حملے کے مبینہ جواز نے کابل کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔

September 20, 2026

کالعدم تنظیموں کی جانب سے خواتین کو ورغلا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں جھونکنے کا گھناؤنا چہرہ اور خواتین کا استحصال بے نقاب ہو گیا ہے۔

September 20, 2026

وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ کوہاٹ حملہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے خوارج نے کیا، افغان طالبان سے ٹھوس کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

September 20, 2026

ایران میں طاقت کا محور تبدیل، اقتدار مذہبی قیادت سے پاسدارانِ انقلاب کی جانب منتقل: رائٹرز

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دہائیوں پر محیط مذہبی قیادت کا غلبہ کمزور پڑ رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں سب سے طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دہائیوں پر محیط مذہبی قیادت کا غلبہ کمزور پڑ رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں سب سے طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران میں مذہبی قیادت کے بجائے پاسدارانِ انقلاب نے کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس کے باعث تہران کی فیصلہ سازی متاثر ہوئی ہے اور واشنگٹن سے ممکنہ مذاکرات میں غیر معمولی تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔

April 29, 2026

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری حالیہ تنازع کے دوران ایران کے ریاستی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1979 کے انقلاب کے بعد پہلی بار ایران میں اقتدار کا محور روایتی مذہبی قیادت سے منتقل ہو کر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے پاس چلا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اگرچہ بظاہر نظام کے سربراہ ہیں، تاہم عملی طور پر تمام کلیدی اور تزویراتی فیصلے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کر رہے ہیں۔

موجودہ جنگی صورتحال نے اختیارات کو ایک محدود اور سخت گیر حلقے تک سمیٹ دیا ہے، جس میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور پاسدارانِ انقلاب کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی نے تہران کے فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات یا سفارتی رابطوں میں غیر معمولی تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایرانی نظام میں اب اعتدال پسند طبقے کا اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے اور تمام تر بحث اب سخت گیر اور انتہائی سخت گیر پالیسیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایران کی موجودہ حکمت عملی مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے خطے میں اپنا عسکری و معاشی اثر و رسوخ برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔

متعلقہ مضامین

شیخ ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز میں فتنۃ الہندستان کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایت کا انکشاف ہوا ہے۔

September 20, 2026

تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان، سردار محمد یوسف نے کہا کہ آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی ہے۔

September 20, 2026

قلات کے قریب این 25 پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 5 دہشتگرد ہلاک اور 23 مغوی بازیاب کرالیے گئے، جبکہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

September 20, 2026

العربیہ کو دیے گئے ذبیح اللہ مجاہد کے وضاحتی انٹرویو اور سابق افغان وزیر مولوی عبدالکبیر کی جانب سے مسجد حملے کے مبینہ جواز نے کابل کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔

September 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *