بنوں کے علاقے مزانگہ پردہ میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام؛ پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ میں متعدد حملہ آور ہلاک، ایک لاش برآمد، علاقے میں سرچ آپریشن جاری۔

April 29, 2026

کابل میں ڈاکٹر ملا عبدالواسع اور برطانوی نمائندے کے درمیان اہم ملاقات؛ پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال۔

April 29, 2026

چمن میں افغان بارڈر فورسز کی اشتعال انگیزی؛ ابتو کاریز میں واقع کیڈٹ کالج پر مارٹر گولوں سے حملہ، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

April 29, 2026

آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جارحیت کا بھرپور جواب؛ چمن سیکٹر میں متعدد چوکیاں اور عسکری گاڑیاں تباہ، دشمن پسپا۔

April 29, 2026

مقبوضہ کشمیر کے مغل خاندان کے دو بھائیوں کی 26 سال کے وقفے سے ہلاکتیں؛ بھارتی فوج کے ہاتھوں راشد مغل کی جعلی مقابلے میں شہادت نے کشمیریوں کے زخم تازہ کر دیے۔

April 29, 2026

افغانستان میں طالبان کا تاجک برادری پر وحشیانہ تشدد؛ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور منظم نسلی جبر کے واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

April 29, 2026

ایران میں طاقت کا محور تبدیل، اقتدار مذہبی قیادت سے پاسدارانِ انقلاب کی جانب منتقل: رائٹرز

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دہائیوں پر محیط مذہبی قیادت کا غلبہ کمزور پڑ رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں سب سے طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دہائیوں پر محیط مذہبی قیادت کا غلبہ کمزور پڑ رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب ریاستی فیصلوں میں سب سے طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران میں مذہبی قیادت کے بجائے پاسدارانِ انقلاب نے کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس کے باعث تہران کی فیصلہ سازی متاثر ہوئی ہے اور واشنگٹن سے ممکنہ مذاکرات میں غیر معمولی تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔

April 29, 2026

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری حالیہ تنازع کے دوران ایران کے ریاستی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1979 کے انقلاب کے بعد پہلی بار ایران میں اقتدار کا محور روایتی مذہبی قیادت سے منتقل ہو کر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے پاس چلا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اگرچہ بظاہر نظام کے سربراہ ہیں، تاہم عملی طور پر تمام کلیدی اور تزویراتی فیصلے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کر رہے ہیں۔

موجودہ جنگی صورتحال نے اختیارات کو ایک محدود اور سخت گیر حلقے تک سمیٹ دیا ہے، جس میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور پاسدارانِ انقلاب کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی نے تہران کے فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات یا سفارتی رابطوں میں غیر معمولی تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایرانی نظام میں اب اعتدال پسند طبقے کا اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے اور تمام تر بحث اب سخت گیر اور انتہائی سخت گیر پالیسیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایران کی موجودہ حکمت عملی مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے خطے میں اپنا عسکری و معاشی اثر و رسوخ برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔

متعلقہ مضامین

بنوں کے علاقے مزانگہ پردہ میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام؛ پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ میں متعدد حملہ آور ہلاک، ایک لاش برآمد، علاقے میں سرچ آپریشن جاری۔

April 29, 2026

کابل میں ڈاکٹر ملا عبدالواسع اور برطانوی نمائندے کے درمیان اہم ملاقات؛ پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال۔

April 29, 2026

چمن میں افغان بارڈر فورسز کی اشتعال انگیزی؛ ابتو کاریز میں واقع کیڈٹ کالج پر مارٹر گولوں سے حملہ، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

April 29, 2026

آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جارحیت کا بھرپور جواب؛ چمن سیکٹر میں متعدد چوکیاں اور عسکری گاڑیاں تباہ، دشمن پسپا۔

April 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *