افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے اقلیتی برادریوں، بالخصوص تاجک افغانوں کے خلاف جبر و استبداد اور منظم تشدد کا سلسلہ تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی حالیہ ویڈیوز میں طالبان جنگجوؤں کو نہتے تاجک شہریوں پر انسانیت سوز تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق طالبان اپنی گرفت مضبوط کرنے اور کسی بھی ممکنہ مزاحمت کے خدشے کو ختم کرنے کے لیے منظم طریقے سے تاجک برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کاروائیوں میں بلاجواز گرفتاریاں، سرِ عام کوڑے مارنا اور تذلیل کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان واقعات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے نسلی بنیادوں پر کی جانے والی ‘نسل کشی’ سے تعبیر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے طاقت کا یہ بے جا استعمال اور اقلیتوں کو دبانے کی پالیسی ملک میں نسلی خلیج کو مزید وسیع کر رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مسلسل مطالبات کے باوجود طالبان حکام انسانی حقوق کی پاسداری اور تمام نسلی گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔