کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری حالیہ ترقیاتی سرگرمیوں اور فلاحی منصوبوں نے صوبے کے امن دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں اس وقت ایک خاموش انقلاب برپا ہے، جہاں پنجگور کے اسکولوں میں جدید سائنس لیبز کا قیام ہو یا کٹان کے دور افتادہ دیہاتوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ریاستِ پاکستان ہر شعبے میں اپنی بھرپور موجودگی ثابت کر رہی ہے۔ حال ہی میں بٹ بلیدہ میں قائم میڈیکل کیمپوں میں 185 سے زائد مریضوں کو مفت طبی امداد فراہم کی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کی ترجیح عوام کی فلاح و بہبود ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ خود کو ‘پرامن سیاسی تحریک’ قرار دینے والی تنظیم بی وائی سی دراصل بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے لیے “امیج لانڈرنگ” کا کام کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر ان دہشت گردوں کی آواز بنتی ہے جو شاہراہوں پر بم نصب کرتے ہیں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس کے مسافروں کا قتل ہو یا معصوم مزدوروں اور تاجروں کی ہلاکتیں، بی وائی سی نے ان مظالم پر ہمیشہ مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے، جو واضح کرتا ہے کہ یہ تحریک صرف ان گروہوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے جو بلوچستان کو تشدد کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بلوچستان کی اصل آواز وہ محنت کش، طلبہ اور تاجر ہیں جو بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں اور پرامن پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ریاست کی جانب سے لگائے جانے والے جرگے، میڈیکل کیمپ اور تعلیمی منصوبے اس پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب ہیں کہ بلوچستان میں ریاست کی موجودگی “قبضہ” ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کو “مزاحمت” کا نام دے کر پیش کرنا بلوچستان کے عوام کو آزاد نہیں بلکہ دفن کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ بلوچستان کے ساتھ اصل یکجہتی کا مطلب دہشت گردی کو ڈھال فراہم کرنا نہیں بلکہ اس کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
دیکھئیے:افغان فورسز کی سرحدی اشتعال انگیزی؛ چمن کیڈٹ کالج پر مارٹر حملہ