پاک افغان سرحدی علاقوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ اور ہم آہنگی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کی فورسز نہ صرف ان دہشت گردوں کو پناہ فراہم کر رہی ہیں بلکہ میدانِ جنگ میں ان کے شانہ بشانہ کارروائیوں میں بھی شریک ہیں۔
سکیورٹی فورسز کی کاروائی
گزشتہ ہفتے 27 اپریل 2026 کو صوبہ کنڑ کے علاقے سرکانو میں افغان طالبان کے ہمراہ 22 سے 25 دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی موثر توپ خانے کی کاروائی کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔ ان ہلاک ہونے والے تمام دہشت گردوں کو افغان طالبان نے اپنی نگرانی میں دفن کیا، جو ان عناصر کے درمیان براہِ راست تعاون کی واضح نشاندہی ہے۔
خفیہ تدفین اور نمازِ جنازہ کی تفصیلات
دہشت گردوں کی ہلاکتوں کے بعد ان کی شناخت چھپانے اور خفیہ تدفین کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 29 اپریل 2026 کو کنڑ کے علاقے شنکرئی میں سابق فاٹا کے ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے ایک نامعلوم دہشت گرد کی لاش کو افغان طالبان کے فوجی اہلکاروں کے زیرِ نگرانی دفن کیا گیا۔ اسی طرح 30 اپریل 2026 کو غزنی کیمپ میں مزید چار دہشت گردوں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
دہشت گردوں کا علاقائی پس منظر
ذرائع کے مطابق غزنی میں جن چار دہشت گردوں کا جنازہ پڑھایا گیا ان میں سے ایک کا تعلق وزیرستان اور تین کا سوات سے تھا۔ یہ واقعات سرحد پار سرگرم دہشت گرد عناصر اور افغان عبوری حکومت کے فورسز کے درمیان موجود گہرے روابط کو ثابت کرتے ہیں، جو علاقائی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔