نئی دہلی: بھارت کی جانب سے 12 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے ایٹمی صلاحیت کے حامل میزائل کی تیاری اور تجربے کے اعلان نے عالمی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس میزائل کی زد میں نہ صرف چین اور مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکہ اور کینیڈا تک کے ممالک آ سکتے ہیں۔
یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے پاس پہلے سے ہی کافی دفاعی ہتھیار موجود ہیں، تو پھر اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی کیا ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت دراصل پوری دنیا کو اپنے نشانے پر لانا چاہتا ہے، جس سے وہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔
🚨🇮🇳 DRDO Chairman says India is ready to test its nuclear capable ICBM Agni-VI with ranges estimated up to 12000 kms carrying multiple warheads.
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) May 1, 2026
With these ranges India has the capability to reach not just China, Middle East and Europe but also United States and Canada.
This… pic.twitter.com/mXCklArYGl
ماضی میں ایسے میزائلوں کی موجودگی صرف سوویت یونین، روس اور چین تک محدود تھی، لیکن اب بھارت اس فہرست میں شامل ہو کر مغربی دنیا کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ دائیں بازو کی انتہا پسندانہ اور فسطائی حکومت کے زیرِ سایہ بھارت کا یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔
اس کے علاوہ، حالیہ دنوں میں ہونے والے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بھارتی حکومت اپنے سیاسی و نظریاتی مفادات کی خاطر کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مغربی ممالک اس بڑھتے ہوئے عالمی خطرے کا نوٹس لیں گے؟؎
دیکھئیے:بھارتی کمپنی کی مبینہ جعل سازی بے نقاب، ایرانی تجارت پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا انکشاف