امریکہ نے پاکستان سمیت اپنے دیگر اتحادیوں کے لیے ایف 16 فائٹنگ فالکن طیاروں کے ریڈار سسٹمز کی طویل المدتی انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت کی غرض سے 488 ملین امریکی ڈالر کے خطیر فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس اہم دفاعی معاہدے کا ایوارڈ جاری کر دیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے فضائی بیڑے کی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
اس پیش رفت کی خاص بات یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب بھارت (نئی دہلی) کی جانب سے واشنگٹن پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اس قسم کے دفاعی تعاون سے گریز کرے۔ امریکہ کی جانب سے بھارتی درخواستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس معاہدے کی منظوری کو سفارتی محاذ پر پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
The US has approved and awarded a USD $ 488Mn for long-term engineering and technical support of F-16 Fighting Falcon radar systems, with Pakistan among the countries covered by the deal — This, despite NewDelhi asking Washington DC to not do so — Someone check on Pakistan’s…
— Anas Mallick (@AnasMallick) May 2, 2026
معروف صحافی انس ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ پاکستان کے ‘غیر متعلقہ مشرقی ہمسایوں’ کی صورتحال اس خبر کے بعد دیکھنی چاہیے، جو ہمیشہ پاکستان کی دفاعی ترقی میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید اشارہ کیا کہ یہ خبر ایک ایسے موقع پر آئی ہے جب ‘6-0’ کی تاریخی مناسبت سے جشن کا دن بھی قریب ہے، جو دفاعی حوالے سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے ریڈار سسٹمز کو طویل المدتی بنیادوں پر تکنیکی اور انجینئرنگ سپورٹ فراہم کی جائے گی، جس سے ان طیاروں کی آپریشنل صلاحیتیں اور جنگی مہارت برقرار رکھنے میں غیر معمولی مدد ملے گی۔