پاکستان نے عالمی سفارتی افق پر ایک بار پھر اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ ثابت کر کے بھارت کے برسوں پرانے “پاکستان کی تنہائی” کے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ حالیہ سفارتی پیش رفت اور معاشی استحکام نے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام آباد نہ صرف علاقائی سیاست کا مرکز ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک متحرک اور ناگزیر کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔
نئی دہلی گزشتہ کئی برسوں سے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کا اسکرپٹ فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اب یہ بیانیہ “ٹائٹینک” کی طرح غرق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھارت نے یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان معاشی دباؤ اور سفارتی تھکن کا شکار ہو کر غیر متعلقہ ہو جائے گا، لیکن پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت اور اسٹریٹجک پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ اس مقام پر جگہ بنا لی ہے جہاں عالمی اور علاقائی فیصلے تشکیل پاتے ہیں۔
کامیاب خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک ہم آہنگی
پاکستان کی یہ واپسی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ بہترین اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور سول ملٹری ہم آہنگی کا ثمر ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ملک کی دفاعی اور سفارتی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ پاکستان کی حالیہ خارجہ پالیسی نے شور شرابے کے بجائے روابط، ثالثی اور علاقائی توازن کو ترجیح دی ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن، بیجنگ، تہران، ریاض اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نئی روح پھونک دی گئی ہے۔

بھارتی سفارت کاروں کا اعترافِ شکست
پاکستان کی اس برتری کا اعتراف خود بھارت کے اندر سے بھی ہو رہا ہے۔ سابق بھارتی ہائی کمشنرز اور تجزیہ کار اپنے مقالوں میں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ “تنہا پاکستان” کا بیانیہ اب دفن ہو چکا ہے۔ بھارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کا استحکام بھارت کے لیے “اسٹریٹجک بے چینی” بن چکا ہے کیونکہ ایک طرف پاکستان عالمی سطح پر روابط بڑھا رہا ہے تو دوسری طرف مودی سرکار اپنی روایتی سیاست اور اندرونی بحرانوں کی وجہ سے اپنے موقف کا دفاع کرنے میں مشکل کا شکار ہے۔
ثالث اور رابطہ کار کا کردار
عالمی برادری اب پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث اور رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ جہاں بھارت کی سفارت کاری ہچکچاہٹ اور محدود ہوتی جا رہی ہے، وہیں پاکستان نے بحرانوں میں متوازن کردار ادا کرنے کی اپنی صلاحیت کو منوایا ہے۔ عالمی مقام حاصل کرنے کے لیے جس پختگی اور توازن کی ضرورت ہوتی ہے، پاکستان نے وہ عملی طور پر کر دکھائی ہے۔
حرفِ آخر پاکستان کی اس واپسی نے ثابت کر دیا ہے کہ پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو نہیں بدلا جا سکتا۔ اسلام آباد جتنی تیزی سے اپنی سفارتی جگہ واپس لے رہا ہے، نئی دہلی کی بے چینی اتنی ہی بے نقاب ہو رہی ہے۔ پاکستان اب تنہا نہیں رہا، بلکہ بھارت اب پاکستان کی اس واپسی سے خوفزدہ نظر آتا ہے۔