افغانستان میں طالبان حکومت اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان چین کی جانب سے افغانستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سست روی پر شدید نالاں ہیں۔
ذرائع کے مطابق طالبان حکومت کو اس وقت آمدن کی شدید ضرورت ہے اور وہ لوگر میں تانبے کے سب سے بڑے منصوبے کو جلد از جلد فعال دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، طالبان کے مسلسل دباؤ کے باوجود چینی کمپنیاں اس اہم منصوبے پر سنجیدگی سے آگے بڑھنے کے بجائے سرد مہری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جس کے باعث یہ منصوبہ تاحال معطلی کا شکار ہے۔
Why Afghan Taliban annoyed with Chinese companies in Afghanistan?
— Sami Yousafzai سمیع یوسفزي (@SamiYousafzaii) May 2, 2026
Sources say China is still not seriously moving forward on Afghanistan’s biggest copper project in Logar , despite Taliban pressure and desperate need for revenue. The project remains largely frozen.
Meanwhile,…
سفارتی اور سکیورٹی حلقوں میں اس ناراضگی کی ایک بڑی وجہ سکیورٹی خدشات بھی بتائی جا رہی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں کابل کے ایک چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ طالبان کے سکیورٹی حلقے اب چینی باشندوں کی موجودگی اور ان کی نقل و حرکت کو انتہائی باریک بینی سے مانیٹر کر رہے ہیں۔
مزید برآں طالبان قیادت اب چینی شہریوں کی پورے افغانستان میں غیر ضروری نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے معاشی وعدوں کی عدم تکمیل اور طالبان کی جانب سے سکیورٹی کے سخت اقدامات خطے میں بیجنگ اور کابل کے مستقبل کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔