کابل: افغانستان گرین ٹرینڈ کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان نے کابل کے گنجان آباد علاقے باغِ قاضی میں اسلحہ اور غیر ملکی دہشت گردوں کو منتقل کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آٹے کی مارکیٹ کے قریب 23 کنٹینرز پر مشتمل اسلحے کا ایک بڑا ڈپو قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد ممکنہ جوابی کارروائیوں سے بچنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، طالبان نے یہ اقدام اس لیے کیا ہے تاکہ ممکنہ حملوں سے بچا جا سکے اور عام آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس علاقے میں مندویِ آرد کے قریب ہتھیاروں کی موجودگی مقامی آبادی کو براہِ راست شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ افغانستان گرین ٹرینڈ نے خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر عسکری اثاثوں کو بچانے کی یہ حکمت عملی بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مردم شریف باغ قاضی واقع چنداول – شهر کهنه کابل!
— Afg Green Trend (@AGTAfghanistan) May 1, 2026
گروه طالبان یک دیپوی بزرگ اجناس نظامی به شمول مهمات را (حدود ۲۳ کانتینر) در قلعه قاضی، نزدیک مارکیت آرد مخفیانه جابجا کردهاند. از نظر طالبان، چون این تجهیزات در نزدیکی مندوی آرد قرار دارد، ممکن است پاکستان آن را بمباران نکند.… pic.twitter.com/H8FeNNbyRx
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس جگہ غیر ملکی دہشت گردوں کو بھی پناہ دی گئی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان بدستور دہشت گرد نیٹ ورکس کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ طالبان ماضی میں بھی خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، اور اب اسی حربے کو پورے شہری علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔
طالبان کا یہ طرزِ عمل ان کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ عوام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ عام شہریوں کو دہشت گردوں اور جنگی ساز و سامان کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا انسانی جانوں کی مکمل بے توقیری کو ظاہر کرتا ہے۔ مقامی آبادی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں اور طالبان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس عسکری سامان کو رہائشی علاقوں سے فوری طور پر دور کریں۔
دیکھئیے:سرحد پار خطرات میں اضافہ اور افغانستان سے پھیلتی بدامنی پر عالمی خدشات؛ ابراہیم المراشی کا اہم تجزیہ