اسلام آباد: سابق امریکی عہدیدار اور خارجہ پالیسی کے ماہر ایڈولف فرینکو نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کارروائیوں کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں لیکن نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ سے وہ انہیں پناہ فراہم کر رہے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2021 کے امریکی انخلا کے بعد افغانستان دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ طالبان قیادت کا یہ مؤقف کہ انہیں مزید انٹیلیجنس معلومات درکار ہیں، محض ایک بہانہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں صرف پاکستان کے لیے ہی خطرہ نہیں ہیں بلکہ پورا خطہ، بشمول ایران، وسطی ایشیا اور چین، اس کی زد میں آ سکتا ہے۔
فرینکو نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کی سفارتی کوششیں تاحال خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکی ہیں، کیونکہ افغان رجیم محض سفارتکاری کے بجائے فوجی اور معاشی دباؤ کی زبان سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان حکومت کو ایک ذمہ دار حکومتی اتھارٹی کے طور پر جوابدہ بنانا ہوگا۔ طویل مدتی سیکیورٹی کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ افغان حدود کے اندر ایک سیکیورٹی بفر زون کا قیام اور عالمی طاقتوں (امریکہ، چین اور روس) کا مشترکہ لائحہ عمل ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اس معاملے میں پہلے ہی بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا رہا ہے اور مزید انتظار کی صورت میں یہ مسئلہ ایک سنگین اور بے قابو علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس لیے، فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔