بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور نوجوانوں کے استحصال میں ملوث بلوچ نیشنل موومنٹ اور اس کے سربراہ ڈاکٹر نسیم بلوچ کے حوالے سے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر نسیم بلوچ یورپ کے پرآسائش ماحول میں مقیم ہو کر بلوچستان میں انتشار اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے لیے بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
دہرا معیار اور نوجوانوں کا استحصال
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر نسیم بلوچ کا طرزِ زندگی ان کے نام نہاد بیانیے کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے اپنے بچے بیرون ملک محفوظ اور آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بلوچستان کے غریب گھرانوں کے نوجوانوں کو “مظلومیت” کے جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے دہشت گردی کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ بی این ایم کا بنیادی ہدف معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر انہیں ریاست کے خلاف بطور “پراکسی” استعمال کرنا ہے۔
بیرونی فنڈنگ اور ملک دشمن ایجنڈا
بی این ایم کی فنڈنگ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تنظیم ان بیرونی طاقتوں سے بھاری رقوم وصول کرتی ہے جن کا واحد مقصد پاکستان میں معاشی عدم استحکام اور بدامنی پیدا کرنا ہے۔ یہ تنظیم بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف من گھڑت کہانیاں اور جھوٹے مقدمات پیش کر کے ملک کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈنگ بلوچ عوام کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ سڑکوں، اسکولوں اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
عوامی نمائندگی کا دعویٰ اور حقیقت
بلوچستان کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نسیم بلوچ یا بی این ایم کو کبھی بھی بلوچ عوام نے اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کیا۔ اصل بلوچ عوام ترقی، تعلیم اور امن چاہتے ہیں، جبکہ یہ گروہ محض بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر بلوچستان کو جلتا دیکھنا چاہتا ہے۔ عوامی سطح پر اس پراکسی نیٹ ورک کو مسترد کیے جانے کے بعد اب ان کی جڑیں تیزی سے کھوکھلی ہو رہی ہیں۔