بلوچستان میں سرگرم دو بڑی کالعدم تنظیموں، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے درمیان برسوں سے جاری پرانے تنازعات اب ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کرتے ہوئے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی پریس ریلیز میں بی ایل ایف کی پالیسیوں اور ان کے ارکان کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس نے ان گروہوں کے مابین موجود گہرے اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
غداری کے الزامات اور سزائے موت
بی ایل اے نے بی ایل ایف سے وابستہ دو اہم افراد، عبدالباقی عرف لونگ اور سلیمان عرف صدام پر ریاستی اداروں کا آلہ کار ہونے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عبدالباقی ماضی میں مخبری، مالی بدمعاملگی اور جبری سرنڈر کروانے جیسے اقدامات میں ملوث رہا ہے، جس کی بنیاد پر اسے ایک نام نہاد عدالت کے ذریعے سزائے موت سنائی گئی اور بعد ازاں اس پر عملدرآمد کیا گیا۔ بی ایل اے نے اس دعوے کو تقویت دینے کے لیے ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر بی ایل ایف کا ایک کمانڈر خود عبدالباقی کو پاکستانی ایجنٹ قرار دے رہا ہے۔
اپنوں کے ہاتھوں ہلاکتیں
ان تنظیموں کے اندر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی تصدیق سابق کمانڈر سرفراز بنگلزئی کے حالیہ بیانات سے بھی ہوتی ہے۔ سرفراز بنگلزئی نے پی ٹی وی، اے آر وائی اور جیو نیوز کو دیے گئے انٹرویوز میں انکشاف کیا ہے کہ ان گروہوں میں شک و شبہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کئی جنگجو دشمن کی گولی سے نہیں بلکہ اپنے ہی ساتھیوں اور گروہ کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اکثر اوقات یہ تنظیمیں اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس کی ذمہ داری ریاست پر ڈال دیتی ہیں تاکہ ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔
سرداری اشرافیہ بمقابلہ نچلا طبقہ
رپورٹس کے مطابق اس تنازع کی ایک بڑی وجہ گہرا طبقاتی تضاد بھی ہے۔ بی ایل اے کی قیادت ‘سرداری اشرافیہ’ کے ہاتھ میں ہے، جبکہ بی ایل ایف میں زیادہ تر نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طبقاتی فرق اب کھلی دشمنی اور نظریاتی جنگ کے بجائے کنٹرول کی جنگ میں بدل چکا ہے۔ بی ایل اے کا دیگر چھوٹے گروہوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اور قیادت کی ہوس ان تنظیموں کے داخلی زوال کی واضح علامت بن چکی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا نام نہاد ‘نظریہ’ اندرونی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔