حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

اسرائیلی حملے میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید ہو گیا

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا
حماس حملوں میں شہید

خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت کے اہم ترین ستون سمجھے جاتے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ان کے خاندان کو کئی دہائیوں سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے۔

May 7, 2026

غزہ سٹی: غزہ پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید ہو گیا ہے۔ حماس کے عہدیدار باسم نعیم نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ سٹی میں کیے گئے ایک حملے میں عزام الحیہ جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت کے اہم ترین ستون سمجھے جاتے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ان کے خاندان کو کئی دہائیوں سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے۔ حماس ذرائع کے مطابق، عزام الحیہ سے قبل خلیل الحیہ کے تین اور بیٹے بھی مختلف اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا، تاہم خلیل الحیہ خود ان تمام حملوں میں محفوظ رہے۔

غزہ میں جاری حالیہ کشیدگی اور مسلسل فضائی حملوں نے انسانی بحران کو سنگین ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ رہائشی علاقوں اور شہری تنصیبات پر ہونے والے ان حملوں میں اب تک ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ حماس کی قیادت اور ان کے اہل خانہ کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی تیز تر ہو گیا ہے۔

دیکھئیے:کابل میں معصوم بچے پر طالبان کا وحشیانہ تشدد: مناظر نے فلسطینی بچوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کی سفاکیت کی یاد تازہ کر دی

متعلقہ مضامین

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *