کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل سے سامنے آنے والے حالیہ لرزہ خیز مناظر نے طالبان کے ‘امن اور برابری’ کے دعوؤں کی ایک بار پھر قلعی کھول دی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک معصوم بچے پر طالبان اہلکار کا وحشیانہ تشدد دیکھا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، یہ محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ اس گہری نفرت اور تعصب کا عکاس ہے جو ہزارہ نسل اور شیعہ عقیدے کے خلاف برسوں سے پروان چڑھائی جا رہی ہے۔
Do u see any difference between d oppression of Palestinian children by Israeli soldiers and d oppression of Afghanistan children by d Taliban? I certainly don't.
— Ахмад Шарифзад (@AhmadSharifzad) May 7, 2026
This scene is from yesterday in Kabul. pic.twitter.com/HmZdfXzCTA
سلفی نظریات کے حامل طالبان کے زیرِ سایہ ہزارہ بچوں کا وجود بھی اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عقیدے کی بنیاد پر معصوموں کو ‘کافر’ قرار دے کر ان پر زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ یہ لرزہ خیز تشدد ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں بچوں پر ہونے والا جبر اب باقاعدہ ایک فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر چکا ہے، جہاں معصومیت پر مذہبی جنونیت غالب آ چکی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہزارہ برادری کو ان کے عقیدے کی وجہ سے منظم طریقے سے نشانہ بنانا نسلی کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ عالمی برادری کی اس معاملے پر مسلسل خاموشی ان بے بس بچوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو رہی ہے۔ تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا دنیا کابل کے ان بچوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دے گی کہ ان کا تعلق ایک مخصوص مکتبِ فکر سے ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس انسانیت سوز سلوک اور مذہبی جنونیت کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھائی جائے تاکہ مزید معصوم جانوں کو اس جبر کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا جا سکے۔
دیکھئیے:افغان بحران؛ انسانی حقوق کی پامالی اور بڑھتی ہوئی داخلی مزاحمت