اسلام آباد: پاکستان حالیہ علاقائی تنازعات میں اپنی کامیاب سفارت کاری، عسکری قوت اور تزویراتی خود مختاری کے ذریعے عالمی سطح پر ایک باوقار ‘مڈل پاور’ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور ایران جیسے سخت حریفوں کو مذاکراتی میز پر لانے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی ثالثی کا لوہا منوانے نے پاکستان کی ساکھ کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، کسی ریاست کی طاقت کا اندازہ محض اس کی جی ڈی پی یا جغرافیے سے نہیں لگایا جا سکتا۔ جوزف نائی کے ‘سافٹ پاور’ تصور کے تحت پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی رویوں پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت دکھائی ہے۔ حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی نام نہاد برتری کے تاثر کو زائل کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ ‘اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ’ طے پانے نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم ‘سیکیورٹی پرووائیڈر’ بنا دیا ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی کا ایک اہم ستون موجودہ قیادت کے تحت بہتر ‘سول-ملٹری کوآرڈینیشن’ اور متوازن خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان نے امریکہ، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت فعال تعلقات برقرار رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کے لیے پاکستان اپنی ثقافتی و مذہبی ہم آہنگی کی بنا پر، جبکہ امریکہ کے لیے ایک دیرینہ سیکیورٹی پارٹنر ہونے کے ناطے، ثالثی کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوا۔
تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان سفارتی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے داخلی سیاسی استحکام اور دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ گولڈمین سیکس نے پاکستان کو مستقبل کی چھٹی بڑی معیشت قرار دیا ہے، لیکن اس کے لیے مستقل پالیسیوں، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنی تزویراتی اہمیت کو طویل مدتی معاشی شراکت داری میں بدلنے کے لیے بھارت کی بڑھتی ہوئی یورپی رسائی کا مقابلہ کرنے اور امریکہ کے ساتھ ادارہ جاتی سطح پر تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں نظم و ضبط اور بہتر طرزِ حکمرانی اسے عالمی نظام میں ایک ناگزیر قوت بنا سکتے ہیں۔
دیکھئیے:بھارت کا دہشت گردی بیانیہ دفن، معرکۂ حق میں پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر