پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی رویوں پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت دکھائی ہے۔ حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی نام نہاد برتری کے تاثر کو زائل کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ ‘اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ’ طے پانے نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم ‘سیکیورٹی پرووائیڈر’ بنا دیا ہے۔

May 7, 2026

یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف جاری ٹارگٹڈ تشدد کے ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان بھی اسماعیلی فرقے کے کم از کم تین افراد کو قتل کیا گیا، مگر اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

May 7, 2026

ایران نے اپنے زیرِ زمین سٹوریج مراکز کو بحال کر لیا ہے اور وہ نہ صرف خراب میزائلوں کی مرمت کر رہا ہے بلکہ نئے میزائل بھی تیار کر رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صدر ٹرمپ کے ان بیانات کی نفی کرتے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی معیشت مفلوج ہو چکی ہے اور ان کے پاس فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں۔

May 7, 2026

افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض ‘انفرادی فعل’ نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

May 7, 2026

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا

May 7, 2026

پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔

May 7, 2026

پاکستان کا بطور ‘مڈل پاور’ عالمی منظرنامے پر شاندار کم بیک: سفارتی مہارت اور تزویراتی حکمتِ عملی کا نیا دور

پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی رویوں پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت دکھائی ہے۔ حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی نام نہاد برتری کے تاثر کو زائل کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ ‘اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ’ طے پانے نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم ‘سیکیورٹی پرووائیڈر’ بنا دیا ہے۔
پاکستان ایک مڈل پاور

پاکستان نے امریکہ، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت فعال تعلقات برقرار رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

May 7, 2026

اسلام آباد: پاکستان حالیہ علاقائی تنازعات میں اپنی کامیاب سفارت کاری، عسکری قوت اور تزویراتی خود مختاری کے ذریعے عالمی سطح پر ایک باوقار ‘مڈل پاور’ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور ایران جیسے سخت حریفوں کو مذاکراتی میز پر لانے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی ثالثی کا لوہا منوانے نے پاکستان کی ساکھ کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، کسی ریاست کی طاقت کا اندازہ محض اس کی جی ڈی پی یا جغرافیے سے نہیں لگایا جا سکتا۔ جوزف نائی کے ‘سافٹ پاور’ تصور کے تحت پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی رویوں پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت دکھائی ہے۔ حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی نام نہاد برتری کے تاثر کو زائل کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ ‘اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ’ طے پانے نے پاکستان کو خطے میں ایک اہم ‘سیکیورٹی پرووائیڈر’ بنا دیا ہے۔

پاکستان کی اس کامیابی کا ایک اہم ستون موجودہ قیادت کے تحت بہتر ‘سول-ملٹری کوآرڈینیشن’ اور متوازن خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان نے امریکہ، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت فعال تعلقات برقرار رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کے لیے پاکستان اپنی ثقافتی و مذہبی ہم آہنگی کی بنا پر، جبکہ امریکہ کے لیے ایک دیرینہ سیکیورٹی پارٹنر ہونے کے ناطے، ثالثی کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوا۔

تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان سفارتی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے داخلی سیاسی استحکام اور دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ گولڈمین سیکس نے پاکستان کو مستقبل کی چھٹی بڑی معیشت قرار دیا ہے، لیکن اس کے لیے مستقل پالیسیوں، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنی تزویراتی اہمیت کو طویل مدتی معاشی شراکت داری میں بدلنے کے لیے بھارت کی بڑھتی ہوئی یورپی رسائی کا مقابلہ کرنے اور امریکہ کے ساتھ ادارہ جاتی سطح پر تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں نظم و ضبط اور بہتر طرزِ حکمرانی اسے عالمی نظام میں ایک ناگزیر قوت بنا سکتے ہیں۔

دیکھئیے:بھارت کا دہشت گردی بیانیہ دفن، معرکۂ حق میں پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا: ڈی جی آئی ایس پی آر

متعلقہ مضامین

یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف جاری ٹارگٹڈ تشدد کے ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان بھی اسماعیلی فرقے کے کم از کم تین افراد کو قتل کیا گیا، مگر اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

May 7, 2026

ایران نے اپنے زیرِ زمین سٹوریج مراکز کو بحال کر لیا ہے اور وہ نہ صرف خراب میزائلوں کی مرمت کر رہا ہے بلکہ نئے میزائل بھی تیار کر رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صدر ٹرمپ کے ان بیانات کی نفی کرتے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی معیشت مفلوج ہو چکی ہے اور ان کے پاس فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں۔

May 7, 2026

افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض ‘انفرادی فعل’ نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

May 7, 2026

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا

May 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *