افغانستان کے شمالی صوبہ بدخشاں کے ضلع ارگو میں پوست کی کاشت کے معاملے پر طالبان حکام اور مقامی آبادی کے درمیان جاری تنازع نے خونی رخ اختیار کر لیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں پر طالبان فورسز کی براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
تنازع کا پس منظر اور حالیہ لہر
اطلاعات کے مطابق ضلع ارگو میں گزشتہ کئی روز سے پوست کی فصلوں کی تلفی کے معاملے پر طالبان انتظامیہ اور مقامی کسانوں کے درمیان کشیدگی برقرار تھی۔ مقامی باشندوں کا مؤقف ہے کہ متبادل ذرائع آمدن کے بغیر فصلوں کی تباہی ان کے معاشی قتل کے مترادف ہے، جبکہ طالبان حکام منشیات کے خاتمے کی پالیسی کے تحت ان مہمات کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔
Alert: According to locals in Argo district of Afghanistan’s Badakhshan province, Taliban forces opened fire on protesters, killing one person and injuring two others. Tensions between the Taliban and local residents have been ongoing in Argo over poppy cultivation. pic.twitter.com/dFUGwtZfqP
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 9, 2026
فائرنگ کا واقعہ اور عوامی ردِعمل
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب مقامی افراد نے اپنی زمینوں پر طالبان کی کارروائی کے خلاف احتجاج شروع کیا تو فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے جا استعمال کیا۔ فائرنگ کے اس واقعے نے علاقے میں اشتعال پھیلا دیا ہے اور سینکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق، مشتعل مظاہرین نے طالبان کے خلاف نعرے بازی کی اور واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق اور نسلی تناؤ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بدخشان میں پوست کی کاشت کا یہ مسئلہ اب محض ایک انتظامی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ مقامی تاجک آبادی اور مرکزی پشتون قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو بھی ظاہر کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی بدخشان کے دیگر علاقوں میں اسی نوعیت کے کریک ڈاؤن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔