پاکستان کے جید علما، بشمول مفتی تقی عثمانی اور دیگر اکابرین، ‘پیغامِ پاکستان’ کے ذریعے متفقہ طور پر یہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ ریاستِ پاکستان، اس کی افواج اور شہریوں کے خلاف مسلح کارروائی “جہاد” نہیں بلکہ “فساد فی الارض” اور کھلی بغاوت ہے۔

May 10, 2026

ہم بھارت کی طرح جنوں میں پاگل نہیں ہے۔ ہم ذمہ دار ریاست ہیں ۔ ہم جنگ میں بھی وحشت کی نذر نہیں ہوتے ، سوچ سمجھ کر ذمہ داری سے ٹارگٹ اڑاتے ہیں ۔ ہم سویلین کو ٹارگٹ نہیں کرتے ، ہم نے ان کی اعلی ترین عسکری قیادت کو لاک کیا اور اس کی ویڈیو بھجوا دی تا کہ سند رہے۔ ہمارے ڈرون بھارتی وزیر اعظم کے گھر پر اڑتے رہے ۔

May 10, 2026

ٹی ٹی پی کے سربراہ نے حالیہ آڈیو پیغام میں مسلح کارروائیاں روکنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اپنی جنگ کا تمام تر ذمہ دار مذہبی طبقے کو قرار دے کر انسدادِ شدت پسندی کے حامی علماء کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

May 10, 2026

بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی کے خودکش حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی جاری ہے۔

May 9, 2026

معروف تجزیہ کار عبداللہ خان نے ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نور ولی محسود کو کھلا علمی چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ 500 علماء کے جس فتوے کو وہ اپنی جنگ کی بنیاد بناتے ہیں، اس میں ریاست کے خلاف بغاوت کا کوئی ذکر نہیں۔

May 9, 2026

افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے شیخ ادریس کی شہادت پر تعزیت کی، تاہم پاکستانی عوام نے ٹی ٹی پی کے حملوں پر کابل کی خاموشی کو ‘دوہرا معیار’ قرار دیا ہے۔

May 9, 2026

مہمند ایجنسی میں ٹی ٹی پی سہولت کار کے خلاف آپریشن، پی ٹی ایم کے کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ

ضلع مہمند کے علاقے حلیم زئی میں ٹی ٹی پی کے سہولت کار احمد شیر کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران پی ٹی ایم کارکنوں نے فورسز پر حملہ کر دیا، جسے پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا۔
ضلع مہمند کے علاقے حلیم زئی میں ٹی ٹی پی کے سہولت کار احمد شیر کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران پی ٹی ایم کارکنوں نے فورسز پر حملہ کر دیا، جسے پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا۔

مہمند کے علاقے حلیم زئی میں سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن۔ ٹی ٹی پی سہولت کار احمد شیر کی گرفتاری کے دوران پی ٹی ایم کارکنوں کی مزاحمت۔ پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کر کے امن و امان بحال کر دیا۔

May 9, 2026

ضلع مہمند کے علاقے حلیم زئی، ماموند میں سیکیورٹی فورسز، محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور پولیس نے ایک مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہے۔ یہ کارروائی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک معروف سہولت کار احمد شیر ولد نور شیر کی گرفتاری کے لیے عمل میں لائی گئی تھی۔

تفصیلات

اطلاعات کے مطابق، جب سیکیورٹی فورسز نے مطلوبہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے کارکنوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں نے گرفتاری کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ مشتعل افراد نے سیکیورٹی اہلکاروں پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کیا تاکہ ملزم کو فرار ہونے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

پولیس کا فوری ایکشن

موقع پر موجود صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پولیس کی اضافی نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد پر آمادہ ہجوم کو منتشر کر دیا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔

سکیورٹی ذرائع کا مؤقف

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق احمد شیر ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک کو لاجسٹک اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں ملوث تھا اور اس کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ مقامی حلقوں نے دہشت گردی کے سہولت کاروں کو بچانے کے لیے کیے جانے والے اس پرتشدد احتجاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں بتائی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان کے جید علما، بشمول مفتی تقی عثمانی اور دیگر اکابرین، ‘پیغامِ پاکستان’ کے ذریعے متفقہ طور پر یہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ ریاستِ پاکستان، اس کی افواج اور شہریوں کے خلاف مسلح کارروائی “جہاد” نہیں بلکہ “فساد فی الارض” اور کھلی بغاوت ہے۔

May 10, 2026

ہم بھارت کی طرح جنوں میں پاگل نہیں ہے۔ ہم ذمہ دار ریاست ہیں ۔ ہم جنگ میں بھی وحشت کی نذر نہیں ہوتے ، سوچ سمجھ کر ذمہ داری سے ٹارگٹ اڑاتے ہیں ۔ ہم سویلین کو ٹارگٹ نہیں کرتے ، ہم نے ان کی اعلی ترین عسکری قیادت کو لاک کیا اور اس کی ویڈیو بھجوا دی تا کہ سند رہے۔ ہمارے ڈرون بھارتی وزیر اعظم کے گھر پر اڑتے رہے ۔

May 10, 2026

ٹی ٹی پی کے سربراہ نے حالیہ آڈیو پیغام میں مسلح کارروائیاں روکنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اپنی جنگ کا تمام تر ذمہ دار مذہبی طبقے کو قرار دے کر انسدادِ شدت پسندی کے حامی علماء کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

May 10, 2026

بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی کے خودکش حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی جاری ہے۔

May 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *