مارتِ اسلامیہ افغانستان کی اعلیٰ قیادت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے ممتاز عالمِ دین شیخ ادریس کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رابطہ کرنے والوں میں افغان وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی، وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیرِ دفاع ملا یعقوب اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد شامل ہیں۔
شہادت کی مذمت اور دوہرا معیار
افغان رہنماؤں نے شیخ ادریس کے قتل کو ایک قابلِ نفرت عمل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ اگرچہ مذہبی حلقوں میں اس رابطے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پاکستانی عوامی اور سماجی حلقوں میں اس طرزِ عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Media reports say the Islamic Emirate’s Interior Minister Sirajuddin #Haqqani, Foreign Minister Mullah Amir Khan Muttaqi, Defence Minister Mullah Yaqoob and Spokesperson Zabihullah Mujahid @Zabehulah_M33 contacted Maulana Fazlur Rehman @MoulanaOfficial and offered condolences to…
— Asif Durrani (@AsifDurrani20) May 8, 2026
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا ادریس کا قتل بلاشبہ ایک المیہ ہے جس کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے، لیکن افغان طالبان کا ‘چناؤ پر مبنی’ رویہ پاکستانیوں کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔
ٹی ٹی پی اور کابل کی خاموشی
پاکستان میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بہیمانہ قتل کی بھی اسی شدت سے مذمت کرتے تو انہیں عوامی سطح پر زیادہ پذیرائی ملتی۔ ناقدین کے مطابق، کابل کی قیادت کے نزدیک ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بے گناہ پاکستانیوں کا خون اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنی ایک مخصوص مذہبی شخصیت کے قتل کو دی جا رہی ہے۔
روابط کا تاثر اور عوامی مطالبہ
یہ طرزِ عمل اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان گہرے تنظیمی اور نظریاتی روابط موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے حملوں کی مذمت کرنے سے دانستہ گریز کرتے ہیں۔ پاکستانی عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان اپنا دوہرا کردار ترک کریں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کابل کی قیادت ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق مؤقف اپنائے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے عملی طور پر روکے۔