تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے حالیہ آڈیو پیغام نے ملک کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض مبصرین اس پیغام کو ریاست کے خلاف حملے روکنے کی مشروط آمادگی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی ماہرین نے پیغام کے مندرجات کو مذہبی طبقے کے لیے ایک منظم ‘ذہنی دباؤ’ قرار دیا ہے۔
علماء کو ڈھال بنانے کی حکمتِ عملی
ٹی ٹی پی کے سربراہ نے اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ان کی مسلح جدوجہد کا آغاز ۵۰۰ پاکستانی علماء کے فتووں کی بنیاد پر ہوا تھا۔ انہوں نے اب گیند مذہبی طبقے کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ یہی طبقہ اب ٹی ٹی پی کو غلط ثابت کرے اور اسے مسلح کارروائیاں ترک کرنے پر قائل کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دراصل ان علماء کو خاموش کرانے کی کوشش ہے جو ریاست کے بیانیے کی حمایت کرتے ہیں۔
Some are interpreting the TTP chief's recent audio message as a conditional willingness to halt attacks on the Pakistani state. However, the final minute needs careful scrutiny.
— Farzana Shah (@Jana_Shah) May 9, 2026
He claimed the 'Jehad' was launched on fatwas issued by “500 Pakistani ulema.”
He also suggested that… pic.twitter.com/XKxXjZIUTq
دفاعی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نور ولی محسود کا حالیہ بیان دراصل اپنی عسکری و سیاسی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اس پیغام کے ذریعے ٹی ٹی پی کی قیادت ایک کثیر الجہتی تاثر قائم کرنا چاہتی ہے، جس کا پہلا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک خود مختار گروہ نہیں بلکہ مذہبی تشریح اور علماء کے فتووں کی پابند ہے؛ اس طرح وہ عالمی سطح پر اپنے انتہا پسندانہ امیج کو ایک ‘اصولی عسکری تحریک’ کے طور پر بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ ان علماء کو نشانہ بنانا ہے جو ‘پیغامِ پاکستان’ جیسے متفقہ فتووں کے ذریعے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کو غیر شرعی قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔
ٹی ٹی پی ان علماء کے سابقہ علمی روابط کا سہارا لے کر انہیں عوام اور خود اپنے جنگجوؤں کی نظر میں مشکوک بنانا چاہتی ہے تاکہ ان کے موجودہ امن پسند بیانیے کی اہمیت کو کم کیا جا سکے۔ مزید برآں، اس حکمتِ عملی کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ انسدادِ شدت پسندی کا دوٹوک مؤقف رکھنے والے جید علماء کو براہِ راست بحث میں گھسیٹ کر انہیں مزید کمزور اور عدم تحفظ کا شکار کیا جائے، جس سے ریاست کے فکری دفاعی نظام میں خلا پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ریاستی بیانیے کے لیے چیلنج
سوشل میڈیا اور علمی حلقوں میں اس بیانیے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک طرف ریاست کے ساتھ کسی ممکنہ مفاہمت کا تاثر دے رہی ہے اور دوسری طرف اپنی تمام تر خونریزی کی ذمہ داری ان مذہبی پیشواؤں پر ڈال رہی ہے جنہوں نے کبھی ریاست کے خلاف بغاوت کی حمایت نہیں کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام مذہبی طبقے کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
اس آڈیو پیغام کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند گروہ اب علمی بنیادوں پر ریاست کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اب یہ ذمہ داری جید علماء اور ریاست پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے ان ‘علمی مغالطوں’ کا بھرپور اور مدلل جواب دیں تاکہ نوجوان نسل کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔