اسلام آباد: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سرغنہ نور ولی محسود کا حالیہ آڈیو پیغام محض ایک بیان نہیں بلکہ علمائے کرام کو بلیک میل کرنے اور دہشت گردی کو مذہبی جواز فراہم کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ نور ولی محسود نے اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کا نام نہاد ‘جہاد’ 500 پاکستانی علما کے فتاویٰ کی روشنی میں شروع کیا گیا تھا اور اب وہی مذہبی طبقہ انہیں غلط ثابت کرے، ورنہ ان کے خلاف فتوے بازی سے باز رہے۔
دفاعی اور مذہبی ماہرین نے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ‘فتنہ الخوارج’ کی روایتی چال قرار دیا ہے۔ نور ولی محسود کا یہ کہنا کہ وہ محض “جنگ برائے جنگ” کے شوقین نہیں، دراصل اپنی شکست اور تنہائی کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ پاکستان کے جید علما، بشمول مفتی تقی عثمانی اور دیگر اکابرین، ‘پیغامِ پاکستان’ کے ذریعے متفقہ طور پر یہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ ریاستِ پاکستان، اس کی افواج اور شہریوں کے خلاف مسلح کارروائی “جہاد” نہیں بلکہ “فساد فی الارض” اور کھلی بغاوت ہے۔
ٹی ٹی پی کے سرغنہ کا علما کو یہ چیلنج دینا کہ وہ انہیں “مطمئن” کریں، دراصل ملک کے مصلحت پسند اور اعتدال پسند مذہبی طبقے کو نشانہ بنانے اور انہیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی ایک خطرناک سازش ہے۔ یہ بیان علما کو ریاست کے مدِ مقابل کھڑا کرنے اور انہیں عسکریت پسندوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے پر مجبور کرنے کی دھمکی ہے۔
پاکستان کی ریاست اور عوام نور ولی محسود کے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔ جہاد کا حق صرف ریاست کے پاس ہے، کسی مسلح گروہ یا فتنے کے پاس نہیں جو معصوم شہریوں اور محافظوں کا خون بہائے۔ علما کو “دشمن کے آلہ کار” یا “لالچی” قرار دینا ان کی توہین ہے جو برسوں سے اس انتہا پسندی کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان گمراہ کن دلائل کا سدِ باب کیا جائے اور ریاست دشمن عناصر کو یہ پیغام دیا جائے کہ مذہب کو دہشت گردی کے لیے ڈھال بنانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔