راولپنڈی: چیف آف آرمڈ فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انکشاف کیا ہے کہ مئی 2025 میں ہونے والی چار روزہ جنگ میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارت نے امریکی سیاسی قیادت کے ذریعے پاکستان سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز جی ایچ کیو میں ‘معرکہِ حق’ کی پہلی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن مقابلہ تھا، جس میں حق کو فتح نصیب ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب شروع ہونے والی اس جنگ میں افواجِ پاکستان نے اپنی فضائیہ اور جدید ‘فتح میزائلوں’ کی مدد سے دشمن کے 26 سے زائد اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی بھرپور عسکری کارروائی نے دشمن کے جدید طیاروں کو زمین تک محدود کر دیا اور ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
آرمی چیف نے انکشاف کیا کہ جب بھارت کو اپنی عسکری صلاحیتوں کی کمی اور پاکستان کے منہ توڑ جواب کا اندازہ ہوا، تو اس نے عالمی قوتوں بالخصوص امریکہ سے مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ شکست خوردہ بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن اور انسانیت کے احترام کی خاطر قبول کیا۔ یاد رہے کہ اس وقت امریکی صدر نے بھی اس سیز فائر کا سہرا اپنے سر باندھا تھا، تاہم آج فیلڈ مارشل نے واضح کر دیا کہ یہ بھارت کی مجبوری اور پاکستان کی امن پسندی تھی۔
خطاب کے دوران فیلڈ مارشل نے بھارت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کا خواب اس کے قد کاٹھ سے کہیں زیادہ بڑا ہے، وہ پاکستان کو تنہائی کا شکار کر کے خطے کا توازن بدلنا چاہتا ہے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ کبھی مہم جوئی کی گئی تو اس کے نتائج صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انتہائی وسیع، خطرناک اور تکلیف دہ ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری طاقت کا محور جارحیت نہیں بلکہ امن کا تحفظ ہے، لیکن ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب روایتی جنگ میں ناکامی کے بعد دوبارہ دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے۔ انہوں نے کشمیر کے عوام کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور افواجِ پاکستان ہر لمحہ کسی بھی اندرونی یا بیرونی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
دیکھئیے:معرکہ حق نے دنیا ہی بدل دی؟